انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: موسمی شدت کے باوجود یو این اداروں کی امدادی سرگرمیاں جاری

جبالیا، شمالی غزہ میں بارش میں وقفے کے دوران دو بے گھر بچے پس منظر میں خیموں کے ساتھ مٹی والے کیمپ میں چلتے ہوئے بالٹیاں اٹھاتے ہیں۔
© UNOCHA
غزہ میں بے گھر لوگوں کا ایک کیمپ۔

غزہ: موسمی شدت کے باوجود یو این اداروں کی امدادی سرگرمیاں جاری

انسانی امداد

شدید سرد موسم اور رسائی میں رکاوٹوں کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں پناہ، پانی، صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ چند یوم کے دوران ایک شراکتی امدادی ادارے نے تقریباً دو لاکھ افراد کے لیے صحت و صفائی کا سامان تقسیم کیا ہے۔ امدادی کارروائیوں میں غزہ کے جنوب و شمال دونوں جانب رہنے والے لوگوں کو یکساں طور سے مدد دی جا رہی ہے۔

Tweet URL

درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ ہنگامی پناہ گاہوں کی فراہمی بدستور اولین ترجیح ہے۔ امدادی اداروں نے غزہ بھر میں 16 ہزار سے زیادہ خاندانوں کو خیمے، ترپالیں اور دیگر ضروری سامان پہنچایا ہے جس میں عارضی پناہ گاہوں کو موسم کی سختیوں سے محفوظ بنانے اور مضبوط کرنے کے لیے درکار اشیا بھی شامل ہیں۔

تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی 

موسم سرما سے نمٹنے کے لیے امدادی اقدامات کے تحت ہزاروں کمبل، گدے اور بستر تقسیم کیے گئے ہیں جبکہ سیکڑوں خاندانوں کو باورچی خانے کا سامان اور لباس بھی فراہم کیا گیا ہے۔ اسی دوران پورے علاقے میں ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی بھی جاری ہے۔ 36 شراکت دار لوگوں کو روزانہ 21,500 مکعب میٹر سے زیادہ صاف پانی مہیا کر رہے ہیں۔

محدود پیمانے پر تعلیمی سرگرمیاں بھی آگے بڑھ رہی ہیں۔ غزہ میں اس وقت 420 سے زیادہ عارضی تعلیمی مراکز کام کر رہے ہیں جہاں تقریباً 5,500 اساتذہ کی مدد سے 2 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ طلبہ کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ سکولوں کی مرمت کا کام جاری ہے اور غزہ شہر میں نئے کمرہ ہائے جماعت کی تعمیر سے 1,800 سے زیادہ بچوں کو دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے حال ہی میں 18 مریضوں اور ان کے ہمراہ 36 افراد کو علاج کے لیے غزہ سے باہر منتقل کرنے میں سہولت فراہم کی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں میں توسیع نہایت اہم ترجیح ہے تاہم اس کا انحصار کئی طرح کے ضروری سامان کی آمد پر ہے جس کی تاحال اجازت نہیں دی جا رہی۔ 

فلسطینی گھروں کی مسماری 

ترجمان نے مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے اطلاع دی ہے کہ شدید سرد موسم کے باعث خانہ بدوش اور مویشی پالنے والے لوگوں کے درجنوں خیمے اور عارضی پناہ گاہیں تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے اجازت ناموں کی عدم موجودگی کے بہانے فلسطینیوں کی ملکیتی رہائشی عمارتوں کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ دو ہفتوں میں 50 ڈھانچے منہدم کیے جا چکے ہیں۔

غزہ اور مغربی کنارے میں ادارہ اور اس کے شراکت دار انتہائی مشکل حالات کے باوجود ضرورت مند لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔