انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جانیے بلوچستان کی یاسمین بارے جسے یونیسف کی مدد سے ملی خوابوں کی تعبیر

ایک مسکراتے ہوئے 16 سالہ لڑکی کیلا سیفلہ، بلوچستان، پاکستان سے، ایک روایتی کڑھائی والے بیگ کے ساتھ۔ یونیسف اور ناروے کی فنڈنگ کی مدد سے، وہ ایک روشن مستقبل کی تعمیر کے لئے زندگی کی مہارتیں سیکھ رہی ہے اور حاصل کر رہی ہے۔
© UNICEF/Shahzaib
یاسمین کو سکول جانے کا موقع نہیں ملا تھا تو انہوں نے قلعہ سیف اللہ میں یونیسف کی مدد سے قائم ایک ادارے میں تعلیم حاصل کی جہاں تھوڑے وقت میں زیادہ جماعتیں پاس کی جاتی ہیں۔

جانیے بلوچستان کی یاسمین بارے جسے یونیسف کی مدد سے ملی خوابوں کی تعبیر

ثقافت اور تعلیم

پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کی یاسمین کے لیے تعلیم حاصل کرنا اور روزگار کمانا کبھی دور کا خواب تھا لیکن اب وہ اس کی تعبیر پا چکی ہیں اور جس میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کا اہم کردار رہا۔

16 سالہ یاسمین سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔ ان کے والد بس ڈرائیور تھے جن کی آمدنی کم تھی جس کے باعث یاسمین کو اپنا مستقبل خوشحال دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اگرچہ وہ قریبی مدرسہ سے دینی تعلیم حاصل کر رہی تھی لیکن ان میں کاروباری صلاحیت بھی پائی جاتی تھی جو کسی موقع کی منتظر تھی۔ 

یاسمین کو یہ موقع اس وقت ملا جب محکمہ سکول ایجوکیشن (ایس ای ڈی) کی ایک ٹیم براکزائی میں واقع ان کے مدرسے میں آئی۔ اس کے بعد مدرسے میں تیز رفتار تعلیمی پروگرام (اے ایل پی) کا مرکز قائم کیا گیا۔ بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (بی ای ایس پی) کے تحت ناروے کی مالی معاونت جبکہ یونیسف اور صوبائی محکمہ تعلیم کی مدد سے قائم کردہ یہ 'اے ایل پی' مرکز ایسے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے جو وسائل کی کمی کے باعث سکول جانے سے محروم ہوتے ہیں۔ 

اس طرح، سکول نے صبح کے وقت دینی علم اور دوپہر کے وقت باقاعدہ سکول کی تعلیم مہیا کرنا شروع کر دی۔ جو بچے پہلے ہی مدرسے میں داخل تھے انہیں بھی 'اے ایل پی' میں شامل ہونے کی ترغیب دی گئی۔

بلوچستان، پاکستان میں ایک معمولی گھر میں رنگین روایتی کپڑوں سے گھرا ہوا ایک نوجوان لڑکی جو پیلے رنگ کے ہیڈ شیلف پہنے ہوئی ہے وہ ایک پرانی سلائی مشین والی میز پر کپڑے سلائی کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
© UNICEF/Shahzaib
یونیسف کی مدد سے قائم ادارے میں یاسمین نے تعلیم کے ساتھ ساتھ روایتی بلوچی لباس سینے کی تربیت بھی حاصل کی۔

ترقی کا عزم 

یاسمین نے اپنے والد کو 'اے ایل پی' میں مفت پڑھائی کے بارے میں بتایا اور داخلہ لینے کی اجازت مانگی۔ یاسمین کے والد نے یہ شرط رکھی کہ یاسمین کی دینی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔

ابتدا میں یاسمین کے لیے دینی اور سکول کی تعلیم دونوں کو ساتھ لے کر چلنا مشکل تھا لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری، تعلیم میں نمایاں کارکردگی دکھائی، کلاس کے بعد پڑھائی میں کمزور طلبہ کی مدد کی اور اپنی برادری میں لوگوں کو اپنی بیٹیوں کا داخلہ کروانے کی ترغیب بھی دی۔

'اے ایل پی' براکزئی میں تقریباً پانچ سال گزارنے کے بعد یاسمین نے بورڈ کے امتحانات کامیابی سے پاس کیے اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول قلعہ سیف اللہ میں نویں جماعت میں باقاعدہ تعلیم کا آغاز کیا۔ 

بنیادی تعلیم اور مہارتیں 

بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کے تحت اس پروگرام کے لیے ناروے کی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں قائم اپنے سفارت خانے کے ذریعے تین سالہ تعلیمی پروگرام (2022-2025) کی مالی معاونت کی جس کا مقصد بنیادی تعلیم کو مضبوط بنانا اور طلبہ کو مہارتیں سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

'اے ایل پی' مراکز اب فنی تربیت بھی فراہم کرتے ہیں، جن میں موٹرسائیکل کی مرمت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بیوٹی شاپ کورسز، پولٹری فارمنگ، فنون ودستکاری اور کپڑوں کی سلائی شامل ہیں۔

'اے ایل پی' براکزئی مرکز میں یاسمین نے کپڑوں کی سلائی کے کورس میں بھی داخلہ لیا۔

ایک سفید حجاب اور نیلے رنگ کی وردی میں ایک نوجوان لڑکی ایک کلاس روم میں وائٹ بورڈ کے سامنے کھڑی ہے، جو اردو میں لکھتی ہے۔ وائٹ بورڈ پر اردو متن ہے، اور دیوار پر یونیسیف اور ناروے کے نشان نظر آتے ہیں۔ یہ تصویر بلوچستان، پاکستان کی ایک دور دراز کمیونٹی میں لڑکیوں کے لئے سیکھنے اور بااختیار بنانے کا ایک لمحہ پیش کرتی ہے۔
© UNICEF/Shahzaib
یاسمین اب جماعت نہم میں ہیں۔

طلبہ کے لیے روشن مثال

وہ بتاتی ہیں کہ 'اے ایل پی' مرکز میں انہیں کپڑوں کی کٹائی اور سلائی کرنے کی تربیت دی گئی اور سلائی مشینیں، کپڑے اور دھاگے جیسی تمام چیزیں فراہم کی گئیں۔ وہ یہ ہنر سیکھنے کے لیے بہت پرجوش تھی اور جو کام ابتدا میں ان کے لیے صرف مشغلہ تھا وہ جلد ہی ایک ممکنہ روزگار دکھائی دینے لگا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب انہیں احساس ہوا کہ یہ ہنر سیکھ کر وہ نہ صرف اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے کپڑے بنا سکتی ہیں بلکہ انہیں بیچ بھی سکتی ہیں تو ان کا شوق مزید بڑھ گیا۔ 

لیلی ثنا تربیت یافتہ استاد ہیں جنہیں بلوچستان ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ نے معاہدے کے تحت مقرر کیا ہے اور وہ 'اے ایل پی' براکزئی مرکز میں طلبہ کو کپڑوں کی سلائی سکھاتی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ مرکز میں زیرتعلیم لڑکیاں بہت باصلاحیت ہیں لیکن ابتدا میں انہیں کچھ رہنمائی اور مہارتیں سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ پرجوش ہیں اور کاروبار کے ذریعے زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ یاسمین ان کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔

فنی تربیت اور خود کفالت

جب یاسمین 'اے ایل پی' سے فارغ التحصیل ہوئیں تو ان کا اعتماد بڑھ چکا تھا۔ وہ تعلیم جاری رکھنے اور اپنی ورکشاپ بنانے کے لیے قلعہ سیف اللہ شہر میں اپنے چچا کے گھر منتقل ہو گئیں۔ ان کے چچا اپنی دکان پر سلائی شدہ کپڑا اور سلائی کا سامان فروخت کرتے تھے۔ انہوں نے یاسمین کو بھی اپنے ساتھ کام کا موقع دیا اور اس طرح یہ دکان ان کے کاروبار کے لیے بہترین جگہ بن گئی۔

ایک سال میں ہی یاسمین کا کام آگے بڑھنے لگا۔ اب وہ مستقل آمدن کماتی ہیں اپنے خاندان کی مدد کرتی ہیں اور اپنے بڑھتے ہوئے کاروبار میں مزید سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

یاسمین کے لیے سب سے فخریہ لمحہ تب آیا جب اس نے خواتین کے ملبوسات کے لیے کوئٹہ میلے میں حصہ لیا۔ یاسمین اور قلعہ سیف اللہ کی دیگر لڑکیوں نے میلے میں اپنی بنائی اشیا پیش کیں اور اپنے کام پر خود داد پائی۔

یاسمین اعتماد سے مسکراتے ہوئے کہتی ہیں کہ تعلیم ان کا شوق ہے۔ اس سے انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے میں مدد ملی ہے۔ وہ بیچلر ڈگری حاصل کرنے کے لیے اپنی تعلیم جاری رکھیں گی اور پڑھائی مکمل ہونے کے بعد اپنے کاروبار کو مزید بڑھائیں گی۔

بلوچستان، پاکستان میں ایک ٹیکسٹائل کی دکان میں جامنی رنگ کے ہیڈ شیلف میں ایک نوجوان لڑکی کپڑے کی طرف اشارہ کرتی ہے جبکہ ایک آدمی رنگین ٹیکسٹائل سے بھری ہوئی شیلفوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یونیسف اس طرح کی لڑکیوں کے لئے تعلیم اور زندگی کی مہارتوں کی تربیت کی حمایت کرتا ہے۔
© UNICEF/Shahzaib
یاسمین اپنی ورکشاپ میں ملبوسات کی تیاری کے لیے خریداری کر رہی ہیں۔

1800 طلبہ کی تعلیم و تربیت 

بلوچستان میں ناروے کی حکومت کی مدد سے یونیسف نے محکمہ تعلیم کی شراکت میں 51 'اے ایل پی' مراکز کے ذریعے 1,800 سے زیادہ طلبہ کو تعلیم کا موقع فراہم کیا ہے جن میں تقریباً 45 فیصد طالبات ہیں۔ ان میں ثانوی تعلیمی درجہ کے 11 'اے ایل پی' مراکز بھی شامل ہیں جہاں یاسمین جیسے طلبہ نے کپڑوں کی سلائی، موٹرسائیکل کی مرمت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے عملی اور زندگی بدلنے والے ہنر سیکھے۔ 

ناروے کی حکومت اور دیگر بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی مدد نے ان طلبہ کو تعلیم اور فنی تربیت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی بدولت سیکھنے سے کمائی تک کا راستہ ہموار ہوا اور یاسمین جیسے بچوں کو اپنا مستقبل روشن بنانے میں مدد ملی۔

یہ فیچر پہلے انگلش میں یہاں شائع ہوا تھا جس کا اردو ترجمہ عبداللہ زاہد نے کیا ہے۔