عالمی معیشت: پیداواری شعبہ سست روی کا شکار لیکن تجارت مستحکم
رواں سال عالمی معاشی پیداوار سست رہنے کا امکان ہے، تجارتی شعبہ مستحکم ہو رہا ہے جبکہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے اقتصادی خدشات برقرار ہیں جن کی معیشت خارجی دھچکوں سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
2026 میں عالمی معاشی صورتحال اور امکانات پر اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال دنیا کی معیشت نے تجارتی پالیسیوں میں تبدیلی سمیت مختلف نوعیت کی ہنگامہ خیز صورتحال کے باوجود لچک کا مظاہرہ کیا تاہم مجموعی معاشی نمو کمزور اور کووڈ۔19 وبا سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کہیں نیچے ہے۔
رواں سال عالمی معاشی پیداوار میں 2.7 فیصد اضافے کی توقع ہے جو 2025 کے لیے 2.8 فیصد کے اندازے سے قدرے کم اور وبا سے پہلے کی اوسط شرح نمو سے بہت کم ہے جو 3.2 فیصد تھی۔
گزشتہ سال امریکا کی جانب سے محصولات (ٹیرف) میں نمایاں اضافے نے عالمی سطح پر تجارتی کشیدگی کو جنم دیا تاہم اس معاملے میں بڑے پیمانے پر مزید شدت نہ آنے کے باعث بین الاقوامی تجارت میں فوری طور پر زیادہ رکاوٹیں پیش نہ آئیں۔ ٹیرف کے تجارتی دھچکوں کے باوجود غیر متوقع معاشی استحکام، صارفین کے مستحکم اخراجات اور مہنگائی میں کمی نے نمو کو سہارا دیا لیکن بنیادی کمزوریاں اب بھی برقرار ہیں۔
سست رفتار نمو
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرمایہ کاری میں کمی اور محدود مالی گنجائش معاشی سرگرمی پر دباؤ ڈال رہی ہے جس کے باعث خدشہ ہے کہ عالمی معیشت وبا سے پہلے کے دور کے مقابلے میں مستقل طور پر سست رفتار نمو کے راستے پر چل پڑے گی۔
تجارتی کشیدگی میں جزوی کمی کے نتیجے میں گزشتہ سال عالمی تجارت میں رکاوٹیں محدود رہیں تاہم بلند ٹیرف اور بڑھتی ہوئی معاشی غیر یقینی صورتحال کے اثرات رواں سال مزید نمایاں ہونے کی توقع ہے۔
مالیاتی نرمی اور صارفین کے اعتماد میں بہتری آنے کے باعث مالی حالات میں آسانی پیدا ہوئی ہے لیکن تیز رفتار سے ترقی کرنے والی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ شعبوں میں اثاثوں کی بلند قیمتوں کے باعث سنگین خطرات بدستور برقرار ہیں۔
غیر یقینی حالات اور سماجی کمزوریاں
رپورٹ کے مطابق، بھاری قرضے اور ان پر اٹھنے والے اخراجات خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں پالیسی سازی کی گنجائش کو محدود کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ معاشی، جغرافیائی سیاسی اور تکنیکی کشیدگی کا مجموعہ عالمی منظرنامے کو نئی شکل دے رہا ہے جس سے معاشی غیر یقینی صورتحال اور سماجی کمزوریاں جنم لے رہی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ وبا کے بعد بہت سے ترقی پذیر ممالک اب بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں جس کے باعث پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کو حاصل کرنے کی جانب پیش رفت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
علاقائی معاشی منظرنامہ
رپورٹ کے مطابق، آئندہ سال امریکہ میں معاشی نمو 2.0 فیصد رہنے کا امکان ہے جو 2025 میں 1.9 فیصد تھی۔ اس کی وجہ مالیاتی پالیسی میں لائی جانے والی نرمی ہے تاہم افرادی قوت کی منڈی میں سست روی معاشی ترقی کی مجموعی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔
یورپی یونین میں معاشی نمو 1.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جو 2025 میں 1.5 فیصد تھی۔ اس کی وجہ امریکی ٹیرف میں اضافہ اور غیریقینی جغرافیائی سیاسی صورتحال ہے جس کے نتیجے میں برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
مشرقی ایشیا میں شرح نمو 4.4 فیصد رہنے کی توقع ہے جو گزشتہ سال 4.9 فیصد تھی۔ خطے کی سب سے بڑی معیشت چین میں شرح نمو 4.6 فیصد رہنے کا امکان ہے جو 2025 کے مقابلے میں قدرے کم ہے، تاہم پالیسی کے حوالے سے مخصوص اقدامات اس کو سہارا دے رہے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں آئندہ سال معاشی نمو 5.6 فیصد رہنے کی پیش گوئی ہے جو 2025 میں 5.9 فیصد تھی۔ انڈیا میں 6.6 فیصد ترقی متوقع ہے جس کی وجہ مضبوط کھپت اور بڑے پیمانے پر سرکاری سرمایہ کاری ہے۔
افریقہ میں مجموعی پیداوار میں 4.0 فیصد اضافے کا امکان ہے جو 2025 میں 3.9 فیصد تھی، تاہم بلند قرضے اور موسمیاتی اثرات خطے کے لیے بڑے خطرات ہیں۔
جنوبی امریکا اور غرب الہند میں رواں سال معاشی نمو 2.3 فیصد رہنے کی توقع ہے جو 2025 میں 2.4 فیصد تھی۔ اس خطے کے صارفین کی طلب میں معتدل اضافہ ہونے کا امکان ہے جبکہ سرمایہ کاری میں قدرے بحالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
سست رفتار عالمی تجارت
رپورٹ کے مطابق، 2025 میں بین الاقوامی تجارت نے غیر معمولی لچک دکھائی اور پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور بڑھتے ٹیرف کے باوجود اس میں 3.8 فیصد کی متوقع شرح سے زیادہ اضافہ ہوا۔ تاہم آنے والے عرصے میں یہ رفتار کم ہونے کا امکان ہے اور عالمی تجارتی نمو 2.2 فیصد تک محدود رہ سکتی ہے۔
گزشتہ سال زیادہ تر خطوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سخت مالی حالات کے باعث سرمایہ کاری کی رفتار کم رہی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض ممالک میں مالیاتی نرمی اور مخصوص اقدامات نے سرمایہ کاری کو سہارا دیا جبکہ مصنوعی ذہانت میں تیز تر پیش رفت نے چند بڑی منڈیوں میں سرمایہ خرچ کرنے کے مواقع پیدا کیے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے فوائد یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوں گے جس کے نتیجے میں پہلے سے موجود بنیادی عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بڑھتی قیمتیں، قوت خرید میں کمی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے باوجود بلند قیمتیں اب بھی ایک بڑا عالمی مسئلہ ہیں۔ 2024 میں مجموعی مہنگائی 4.0 فیصد تھی، جو 2025 میں کم ہو کر اندازاً 3.4 فیصد رہ گئی جبکہ رواں سال اس کے مزید کم ہو کر 3.1 فیصد تک آنے کی توقع ہے۔
اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے اقتصادی و سماجی امور لی جنہوا نے کہا ہے کہ اگرچہ مہنگائی میں کمی آ رہی ہے لیکن بلند اور متواتر بڑھتی قیمتیں سب سے کمزور طبقات کی قوت خرید کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔
مہنگائی میں حالیہ کمی کو گھریلو سطح پر بہتری میں بدلنے کے لیے ضروری ہے تاکہ بنیادی اخراجات کا تحفظ کیا جائے، منڈی میں مسابقت کو مضبوط بنایا جائے اور قیمتوں میں بار بار آنے والے جھٹکوں کی بنیادی وجوہات سے نمٹا جائے۔
اجتماعی فیصلوں کی ضرورت
رپورٹ میں تجارتی صف بندی میں تبدیلی، مسلسل مہنگائی کے دباؤ اور موسمیاتی دھچکوں کے اس دور میں عالمی سطح پر مزید مضبوط ہم آہنگی اور اجتماعی فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
متعدد غریب، خشکی میں گھرے اور چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک قرضوں کے بوجھ، پالیسیوں سے متعلق محدود گنجائش اور خارجی معاشی جھٹکوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں جس کے پیش نظر پائیدار اور مضبوط معاشی نمو کے لیے مزید بین الاقوامی معاونت ناگزیر ہے۔
رپورٹ کے مصنفین نے گزشتہ سال سپین میں منعقد ہونے والی مالیات برائے ترقی کانفرنس کے نتیجے میں سامنے آنے والے 'سیویل عہد نامے' کو ترقی کے لیے ایک جامع خاکہ قرار دیا ہے جو کثیرالفریقی تعاون کو مضبوط بنانے، عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات لانے اور ترقیاتی مالیات کو وسعت دینے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔