امریکی دستبرداری کے باوجود یو این ادارے اپنا کام کرتے رہیں گے، گوتریش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے امریکہ کی جانب سے ادارے کے متعدد شعبوں کی رکنیت سے دستبردار ہونے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کا نظام اپنی تمام ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل اسمبلی کی منظوری سے طے شدہ اقوام متحدہ کے باقاعدہ بجٹ اور امن مشن کے بجٹ میں رکن ممالک کی لازمی مالی شراکت ادارے کے چارٹر کے تحت ایک قانونی ذمہ داری ہے اور اس میں امریکا بھی شامل ہے۔
بدھ کی رات امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والی صدارتی یادداشت کے تحت امریکی انتظامیہ کے مختلف محکموں اور اداروں کو فوری طور پر درجنوں بین الاقوامی اداروں، کنونشن اور معاہدوں سے علیحدگی کے اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جنہیں واشنگٹن اپنے مفادات کے منافی سمجھتا ہے۔
عدم تعاون کی یادداشت
اس یادداشت کے تحت یہ فیصلہ اقوام متحدہ کے 31 اداروں اور شعبوں کو متاثر کرتا ہے جن میں درج ذیل خاص اہمیت رکھتے ہیں:
- اقوام متحدہ کا فنڈ برائے آبادی (یو این ایف پی اے)، جو ماں اور بچے کی صحت اور جنسی و صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے کام کرتا ہے۔
- اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی (یو این ایف سی سی سی)، جو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
- اقوام متحدہ کا فنڈ برائے جمہوریت (یو این ڈی ایف)، جو جمہوریت کے فروغ کے لیے سول سوسائٹی کے منصوبوں کی مالی معاونت اور رہنمائی کرتا ہے۔
- اقوامِ متحدہ کے سیکرٹریٹ کے دیگر دفاتر جو نیویارک اور دیگر مقامات پر قائم ہیں، جیسا کہ مسلح تنازعات میں بچوں کے تحفظ اور جنگ میں جنسی تشدد کے خاتمے سے متعلق دفاتر۔
اقوام متحدہ کے پانچ میں سے چار علاقائی کمیشن بھی اس فہرست کا حصہ ہیں جن میں ایشیا و بحرالکاہل، مغربی ایشیا، افریقہ، اور لاطینی امریکا و غرب الہند سے متعلق کمیشن شامل ہیں جو کثیرالطرفہ ترقیاتی تعاون کے لیے نہایت اہم پلیٹ فارم سمجھے جاتے ہیں۔
یادداشت میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اداروں کے حوالے سے دستبرداری کا مطلب قانون کے تحت ممکنہ حد تک ان اداروں میں شرکت یا مالی معاونت کا خاتمہ ہے۔
کام جاری رہے گا: گوتیرش
اس اعلان کے باوجود سیکرٹری جنرل نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے تمام ادارے رکن ممالک کی جانب سے دی گئی ذمہ داریوں پر عملدرآمد جاری رکھیں گے۔ اقوام متحدہ کو یہ فرض تفویض کیا گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے لیے کام کرے جو اس پر انحصار کرتے ہیں اور ادارہ پرعزم طور سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت، ادارے کے باقاعدہ بجٹ اور امن مشن کے بجٹ کے لیے طے شدہ مالی شراکتیں جنرل اسمبلی کی منظوری سے ہوتی ہیں اور یہ تمام رکن ممالک کے لیے لازمی ذمہ داریاں سمجھی جاتی ہیں۔
2026 کے لیے جنرل اسمبلی نے 3.45 ارب ڈالر کا باقاعدہ بجٹ منظور کیا ہے جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ اس میں مالی وسائل میں 15 فیصد اور عملے میں تقریباً 19 فیصد کمی لائی گئی ہے۔
موسمیاتی تعاون کو دھچکا
'یو این ایف سی سی سی' کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم عالمی موسمیاتی تعاون سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے۔ فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی اور پیرس معاہدہ امریکا ہی کے کردار سے وجود میں آئے کیونکہ یہ دونوں معاہدے مکمل طور پر امریکا کے قومی مفاد میں ہیں۔
جب دنیا کے تمام ممالک مل کر آگے بڑھ رہے ہیں تو ایسے میں عالمی قیادت، موسمیاتی تعاون اور سائنسی سوچ سے پیچھے ہٹنے کا یہ تازہ قدم صرف امریکی معیشت، روزگار اور معیار زندگی کو نقصان پہنچائے گا۔ خاص طور پر ایسے وقت میں یہ نقصان کہیں شدید ہو گا جب جنگلاتی آگ، سیلاب، شدید طوفان اور خشک سالی تیزی سے بدترین صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ یہ ایک بڑی خود ساختہ ناکامی ہے جو امریکا کو کم محفوظ اور کم خوشحال بنا دے گی۔
سائمن سٹیئل نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ'یو این ایف سی سی سی' اپنا کام پوری لگن سے جاری رکھے گا جبکہ امریکا کے لیے مستقبل میں دوبارہ شمولیت کے دروازے کھلے رہیں گے جیسا کہ اس نے ماضی میں پیرس معاہدے میں واپسی اختیار کی تھی۔