پائیدار ترقی کا معاہدہ یو این اور عراق کے درمیان نئے دور کا آغاز
اقوام متحدہ اور عراق کے مابین 'پائیدار ترقی کے لیے تعاون' کا فریم ورک طے پایا ہے جس کی بدولت ملک کو تعلیم تک بہتر رسائی، ماحولیاتی تحفظ اور موثر حکمرانی سمیت اہم ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں مدد مہیا کی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے عراق میں کام کرنے والا اقوام متحدہ کا معاون مشن (یونامی) اپنی مدت پوری کر کے ختم ہو رہا ہے۔ اس مشن کے ذریعے عراق کو اہم پالیسی معاملات میں معاونت فراہم کی گئی۔
عراق میں اقوام متحدہ کی ٹیم کے سربراہ محمد الحسن نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ادارے اور عراق کے باہمی تعلقات میں ایک فطری اور باوقار منتقلی کی علامت ہے جو سیاسی استحکام کے لیے معاونت کے مرحلے سے نکل کر پائیدار ترقی سے متعلق شراکت داری کے مرحلے میں داخل ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔
تعاون کی بنیادی ترجیحات
2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کے حصول کے تناظر میں یہ معاہدہ درج ذیل چار بنیادی تزویراتی ترجیحات پر مشتمل ہے جو ملک کے قومی ترقیاتی منصوبے سے ہم آہنگ ہیں۔
- تعلیم، صحت اور سماجی خدمات تک بہتر رسائی
- روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور معاشی ترقی
- ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا
- قانون اور بہتر حکمرانی یقینی بنانا
عملدرآمدی طریقہ کار
اقوام متحدہ اور عراق کے مابین اس ترقیاتی معاہدے کے نفاذ، نگرانی اور اس بارے اطلاع کاری کی رہنمائی ایک سٹیئرنگ کمیٹی کرے گی جس کی مشترکہ سربراہی عراق کی وزارت منصوبہ بندی اور ملک میں اقوام متحدہ کے سربراہ کریں گے۔
حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارے ہر سال پیش رفت کا جائزہ لیں گے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ فریم ورک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس پر عملدرآمد کے لیے ایک مخصوص فنڈ قائم کیا جائے گا جبکہ ضروری وسائل کے حصول کے لیے حکمت عملی بھی اپنائی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے مشن کا اختتام
'یونامی' کا قیام 2003 میں عراق کے سابق صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عمل میں آیا تھا۔ اس مشن نے عراق کو سیاسی تبدیلی، جنگ کے بعد بحالی اور داعش کے خلاف جدوجہد کے دوران بھرپور معاونت فراہم کی۔ یہ خصوصی سیاسی مشن 31 دسمبر کو باضابطہ طور پر اپنی مدت پوری کر لے گا۔
اب عراق گزشتہ 20 برس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحکم ہو چکا ہے اور خود انحصاری کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ محمد الحسن نے گزشتہ دنوں اس حوالے سے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ عراق نئے دور میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے جہاں وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو مزید مضبوط بنائے گا۔