انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سلامتی کونسل: ایران پر پابندیوں کے سوال پر اجلاس بے نتیجہ

عدم پھیلاؤ کے اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چیمبر کا ایک وسیع شاٹ، نمائندوں کے ساتھ ایک بڑے سرکلر ٹیبل اور ایک بڑی اسکرین کے ارد گرد بیٹھے ہوئے ایک اسپیکر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے حصہ لے رہے ہیں.
UN Photo/Eskinder Debebe اقوام متحدہ کے شعبہ قیام امن و سیاسی امور کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو سلامتی کونسل کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہی ہیں۔

سلامتی کونسل: ایران پر پابندیوں کے سوال پر اجلاس بے نتیجہ

امن اور سلامتی

جوہری عدم پھیلاؤ کے معاملے پر ایران کے خلاف پابندیوں کی بحالی یا خاتمے سے متعلق بات چیت کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا ہے۔

اجلاس میں کونسل کے بعض ارکان کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری مواد کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں جس کی وجہ سے اس پر پابندیاں بحال ہونی چاہئیں جبکہ دیگر ارکان نے ان پابندیوں کے مستقل خاتمے کی بات کرتے ہوئے اس اجلاس کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔ 

اجلاس کے اختتام پر اقوام متحدہ کے شعبہ قیام امن و سیاسی امور کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے بتایا کہ رواں سال کی دوسری ششماہی میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آنے کے باوجود آگے بڑھنے کے راستے پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کونسل کو یاد دلایا کہ مذاکراتی تصفیہ ہی عالمی برادری کے لیے بہترین راستہ ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کو پرامن رکھنے کی ضمانت دے اور پابندیوں میں نرمی فراہم کرے۔

سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان اختلاف کی بنیادی وجہ 2015 کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے متعلق اجلاس منعقد کرنے کی قانونی حیثیت پر تنازع ہے۔ یہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی کے لیے طے پایا تھا جس کے دیگر فریقین میں چین، فرانس، روس، برطانیہ، امریکہ، جرمنی اور یورپی یونین شامل تھے۔ 

پابندیوں کی بحالی اور پہلا اجلاس

آج ہونے والا اجلاس فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا عمل شروع ہونے کے بعد اس معاملے پر کونسل کا پہلا اجتماع تھا۔ تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ ایران اس معاہدے کی تعمیل میں ناکام رہا ہے جس پر اس کے خلاف پابندیاں بحال ہونی چاہئیں۔

اجلاس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور سلامتی کونسل کے دیگر ارکان نے یہ موقف اختیار کیا کہ جس قرارداد کے نتیجے میں جوہری معاہدہ طے پایا تھا وہ اب بھی نافذ العمل ہے لہٰذا کونسل کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاملے پر اجلاس جاری رکھنے چاہییں۔

اقوام متحدہ میں فرانس کے نائب مستقل نمائندے جے دھرمادھیکاری نے کہا کہ ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل نہ کرنا عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اگر ایران کا جوہری ذخیرہ عسکری سطح کی افزودگی تک پہنچ گیا تو وہ اتنی مقدار میں ہوگا کہ اس سے 10 جوہری ہتھیار تیار کیے جا سکیں گے۔

اجلاس پر اعتراض

روس کے مستقل نمائندے ویسلے نیبینزیا نے سلامتی کونسل کی صدارت (سلوینیہ) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ اس نے غیر جانبداری کے ساتھ اس ذمہ داری کو نبھانے کی جرات نہیں دکھائی اور ان لوگوں کی بات پر عمل کیا جو ایک ایسے موضوع پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے پر اصرار کر رہے تھے جو سرے سے کونسل کے سامنے موجود ہی نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کونسل کی 'جے سی پی او اے' کمیٹی اب وجود نہیں رکھتی۔ لہٰذا یورپی یونین اب اس کی رابطہ کار نہیں رہی اور اسے سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

ایران کا موقف 

ایران کی جانب سے بات کرتے ہوئے اس کے مستقل سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا کہ قرارداد 2231 (2015) کی میعاد 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہو چکی ہے۔ نہ تو سیکرٹری جنرل کے پاس کوئی اختیار ہے کہ وہ اس معاملے پر رپورٹ پیش کریں اور نہ ہی سلامتی کونسل کے پاس اس پر بحث کرنے کا کوئی مینڈیٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج سلامتی کونسل 'قرارداد کی دانستہ مسخ شدہ تشریح' اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق 'غلط معلومات کی شعوری تشہیر' کی گواہ بن رہی ہے۔

یورپی یونین کا مطالبہ 

یورپی یونین کی نمائندہ ہیڈا سیمسن نے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر معاشی اور جوہری پابندیوں کی بحالی سفارت کاری کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہونا چاہیے۔ 

انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کو جوہری مواد کی مقدار، اس کے محل وقوع اور متعلقہ سرگرمیوں سے متعلق تازہ ترین اور قابل تصدیق معلومات فراہم کرے۔