انسانی کہانیاں عالمی تناظر

انسانی حقوق ماہرین کا ایران سے زہرہ طبری کی پھانسی روکنے کا مطالبہ

ایران پر حقائق تلاش کرنے والے اقوام متحدہ کے آزادانہ مشن کے مطابق وہاں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سلب ہیں۔
© Unsplash/Hasan Almasi
ماہرین کے مطابق صنفی مساوات کی خاطر خواتین کی سرگرمیوں کو جرم قرار دینا اور ایسے اظہار کو مسلح بغاوت کا ثبوت بنانا صنفی امتیاز کی نہایت سنگین شکل ہے۔

انسانی حقوق ماہرین کا ایران سے زہرہ طبری کی پھانسی روکنے کا مطالبہ

انسانی حقوق

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایران کی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ 'مسلح بغاوت' کے جرم میں موت کی سزا پانے والی 67 سالہ خاتون زہرہ طبری کی پھانسی روکے اور انہیں منصفانہ قانونی کارروائی کا حق فراہم کرے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ زہرہ طبری کا مقدمہ منصفانہ سماعت سے متعلق بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کی واضح مثال ہے۔ اس سے قومی سلامتی سے متعلق مبہم اور وسیع تر الزامات کے تحت سزائے موت کے نامناسب استعمال کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔

Tweet URL

زہرہ طبری الیکٹریکل انجینئر ہیں جو اس وقت رشت شہر کی لاکان جیل میں قید ہیں۔ انہیں رواں سال 25 اکتوبر کو رشت کی انقلابی عدالت نے 'ملکی اساس کے خلاف مسلح بغاوت' کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔ یہ فیصلہ دو شواہد کی بنیاد پر دیا گیا جن میں 'خواتین، مزاحمت، آزادی' کے نعرے پر مبنی کپڑے کا ٹکڑا اور ایک غیر نشرشدہ آڈیو پیغام شامل تھے۔  

اطلاعات کے مطابق، زہرہ طبری کو ان کے گھر پر چھاپے کے دوران کسی عدالتی وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا گیا۔ انہیں ایک ماہ تک تنہائی میں قید رکھ کر تفتیش کی گئی اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور حکومت مخالف گروہ کی رکنیت کا اعتراف کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والی یہ عدالتی سماعت دس منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل ہو گئی۔

سنگین ترین صنفی امتیاز

ماہرین نے کہا ہے کہ طبری کو ان کے وکیل تک رسائی نہیں دی گئی اور ان کی نمائندگی عدالت کے مقرر کردہ وکیل نے کی جبکہ مقدمے کی مختصر سماعت کے فوراً بعد انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔

اس مقدمے میں قانونی طریقہ کار کی سنگین خلاف ورزی دیکھنے کو ملی جس میں غیر قانونی گرفتاری، موثر قانونی معاونت سے انکار، غیر معمولی حد تک مختصر سماعت، دفاع کی تیاری کے لیے ناکافی وقت اور ایسے شواہد کا استعمال شامل ہے جو بغاوت کے الزام کو ثابت کرنے کے لیے ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران نے شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہدنامہ کی توثیق کر رکھی ہے جس کے تحت قتل عمد کے علاوہ سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔ اس مقدمے میں دانستہ قتل کا کوئی عنصر شامل نہیں لہٰذا طبری کو پھانسی دینا قتل کے مترادف ہو گا۔ صنفی مساوات کی خاطر خواتین کی سرگرمیوں کو جرم قرار دینا اور ایسے اظہار کو مسلح بغاوت کا ثبوت بنانا صنفی امتیاز کی نہایت سنگین شکل ہے۔

سزائے موت روکنے کا مطالبہ 

ماہرین نے کہا ہے کہ سزائے موت پر عالمی بحث اب اس نکتے تک پہنچ چکی ہے کہ آیا یہ سزا بذات خود انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے یا نہیں۔ مگر ایران کی عدلیہ جس انداز سے لوگوں کو موت کی سزا سناتی ہے وہ اس قانونی بحث سے کوسوں دور ہے۔ 

جب کوئی ریاست کسی کی جان لینے کا اختیار استعمال کرتی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ مکمل طور پر منصفانہ قانونی طریقہ کار کی پابندی کرے، مکمل شفافیت کو یقینی بنائے اور اس اختیار کو صرف قتل عمد کے مقدمات تک محدود رکھے۔

زہرہ طبری ایسے کم از کم 52 افراد میں شامل ہیں جنہیں قومی سلامتی سے متعلق مبہم الزامات کے تحت سزائے موت کا سامنا ہے۔ دیگر خواتین سیاسی قیدیوں کو بھی بغاوت کے الزام میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ اگرچہ ان میں سے بعض کی سزائیں بعد میں کالعدم قرار دی گئیں تاہم پخشاں عزیزی نامی خاتون کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔ 

اقوام متحدہ کے ماہرین زہرہ طبری کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے لیے فوری مداخلت کے مقصد سے ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔