انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بنگلہ دیش: صحافتی اداروں پر پرتشدد ہجوم کے حملے تشویشناک، آئرین خان

بنگلہ دیش کے ایک شہر کے اسکوائر میں لوگوں کے ایک بڑے ہجوم کا فضائی نظارہ، دور سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
© OHCHR بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں مظاہروں کا ایک فضائی منظر (فائل فوٹو)۔

بنگلہ دیش: صحافتی اداروں پر پرتشدد ہجوم کے حملے تشویشناک، آئرین خان

انسانی حقوق

اظہار اور رائے کی آزادی پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار آئرین خان نے بنگلہ دیش میں ذرائع ابلاغ کے اداروں اور ثقافتی مراکز پر ہجوم کے حملوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ان واقعات کے ذمہ داروں کو بلاتاخیر انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

انہوں نے گزشتہ سال سابق حکومت کے خلاف عوامی تحریک کے نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل اور اس واقعے کے خلاف احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کی سخت مذمت کی ہے۔ ان واقعات میں ڈیلی سٹار اور پروتھوم آلو نامی اخبارات کے دفاتر اور چھایانوت ثقافتی مرکز کو نذر آتش کر دیا گیا تھا جبکہ صحافیوں اور فنکاروں پر بھی حملے کیے گئے۔

Tweet URL

آئرین خان نے کہا ہے کہ عوامی غم و غصے کو صحافیوں اور فنکاروں کے خلاف استعمال کرنا خطرناک ہے اور ایسے وقت میں یہ کہیں زیادہ تشویشناک بات ہے جب ملک میں انتخابات کی تیاری ہو رہی ہے۔ ان واقعات کے صحافتی آزادی، اقلیتی آوازوں، اختلاف رائے اور جمہوریت پر خوفناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ حملے عبوری حکومت کی ناکامی ہیں جسے تشدد میں ملوث عناصر کا احتساب اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔

 عبوری حکومت کی کمزوری 

خصوصی اطلاع کار نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بنگلہ دیش میں اظہار رائے، خصوصاً میڈیا کی آزادی ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی جانب سے آن لائن اور آف لائن دباؤ کا شکار رہی ہے۔ 5 اگست 2024 کے بعد سیکڑوں صحافیوں کو سیاسی بنیادوں پر قتل اور دہشت گردی و دیگر سنگین جرائم کے کمزور الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا جبکہ بہت سے لوگوں کو طویل عرصہ تک ناجائز حراست میں رکھا گیا۔ 

حالیہ مہینوں میں ایسے متعدد واقعات پیش آئے جب صحافیوں، سیاسی تجزیہ کاروں اور طنز نگاروں کے ساتھ ثقافتی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں کو غیر ریاستی عناصر کی جانب سے دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

اس دوران کئی صحافی قتل بھی ہو چکے ہیں جن میں تازہ ترین واقعہ گزشتہ ہفتے پیش آیا۔ عبوری حکومت نے بڑی حد تک سابقہ طرزِ عمل کو ہی جاری رکھا ہے جس کے باعث حملے اور دھمکیاں معمول بن گئی ہیں اور مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ 

آئرین خان نے کہا ہے کہ جب نفرت انگیز تقاریر اور بدنامی پر مبنی مہمات ذرائع ابلاغ کے اداروں، صحافیوں، فنکاروں اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں کی سلامتی اور ساکھ کو خطرے میں ڈالیں اور حکومت یا سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کی جانب سے کوئی اصلاحی اقدام نہ کیا جائے تو پھر الفاظ بہت جلد تشدد میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ 

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شریف عثمان ہادی کے قتل اور ذرائع ابلاغ کے اداروں پر حملوں کی فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرے، ذمہ داروں سے قانونی تقاضوں کے مطابق جواب طلبی کی جائے اور انتخابات سے قبل سول سوسائٹی بالخصوص صحافیوں کے تحفظ کے لیے موثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر بنگلہ دیش کی عبوری حکومت سے رابطے میں ہیں۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔