روایتی ادویات پر عالمی کانفرنس صحت پر دلی اعلامیہ کے ساتھ ختم
دنیا بھر کے ممالک نے محفوظ، موثر اور شواہد پر مبنی روایتی طب کو اپنے نظام ہائے صحت کا حصہ بنانے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ اتفاق انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے زیراہتمام روایتی طب کے بارے میں آج ختم ہونے والی دوسری عالمی کانفرنس میں کیا گیا ہے۔ 'توازن کی بحالی: صحت اور فلاح و بہبود کا علم اور عمل' کے عنوان سے منعقدہ دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر منظور کردہ 'دہلی اعلامیہ' میں کہا گیا ہے کہ روایتی طب کو بنی نوح انسانی کے لیے بھرپور طور سے فائدہ مند بنانے اور اس تک رسائی بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔
اس کانفرنس میں 100 سے زیادہ ممالک کے وزرائے صحت، سائنس دانوں، معالجین، مقامی و قبائلی علم کے حامل افراد، جدید ٹیکنالوجی کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ روایتی علم اور جدید سائنس ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ عالمی ماہرین اور وزرائے صحت کے درمیان ہونے والی گفتگو نے مشترکہ تحقیق، ضابطہ کاری میں آسانی، تربیت اور تبادلہ علم کے نئے راستے کھولے ہیں جو روایتی طب کو دنیا بھر میں زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد بنائیں گے۔
دہلی اعلامیہ کے اہم نکات
کانفرنس کے اختتام پر منظور کردہ 'دہلی اعلامیہ' میں کہا گیا ہے کہ روایتی طب کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے گا، کثیرالجہتی تحقیق کو فروغ دینے کے اقدامات اٹھائے جائیں گے اور روایتی ادویات کے حوالے سے 'ڈبلیو ایچ او' کی لائبریری کو ترقی دی جائے گی۔
اعلامیہ کے مطابق، محفوظ و معیاری ادویات اور ان پر عوامی اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ثابت شدہ مفید روایتی طب کو صحت کے نظام بالخصوص بنیادی صحت کی نگہداشت، معیارات، رہنما اصولوں اور افرادی قوت کی تربیت کے ساتھ ضم کیا جائے گا۔ بہتر معلومات، بین الاقوامی تعاون اور مقامی لوگوں کی بامعنی قیادت کے ذریعے اس طب کو پھیلانے اور اس سے لوگوں کے مساوی استفادے کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا کہ کانفرنس نے ثابت کیا کہ روایتی طب نہ تو ماضی کی کوئی یادگار ہے اور نہ ہی کوئی غیرترقی یافتہ متبادل۔ یہ ایک زندہ سائنس، مشترکہ ورثہ اور طبی سہولیات تک عام و یکساں رسائی، صحت کے مضبوط نظام اور پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔
روایتی طب کی ڈیجیٹل لائبریری
کانفرنس میں روایتی ادویات کے بارے میں 'ڈبلیو ایچ او'کی لائبریری کے اجرا کا اعلان کیا گیا جو سائنسی شواہد، پالیسی سے متعلق ذرائع اور روایتی علم کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کرے گی۔
ڈاکٹر ٹیڈروز کا کہنا تھا کہ یہ لائبریری محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ دانشورانہ ملکیت اور لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی، منصفانہ رسائی اور فوائد کی تقسیم کو فروغ دے گی اور دنیا بھر میں شواہد پر مبنی پالیسی، تعلیم اور جدت کو ممکن بنائے گی۔
وزیر اعظم مودی نے کانفرنس کے نتائج سے ہم آہنگ متعدد اقدامات کا اعلان کیا جن میں یوگا کی تربیت پر 'ڈبلیو ایچ او' کی تکنیکی رپورٹ کا اجرا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دہلی میں 'ڈبلیو ایچ او' کے جنوب مشرقی ایشیائی دفتر کا افتتاح کیا گیا بھی ہے جسے انہوں نے انڈیا کی جانب سے ایک عاجزانہ تحفہ قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ دفتر تحقیق، ضابطہ کاری اور استعداد سازی کے فروغ کے لیے ایک عالمی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔
تکنیکی مشاورتی گروپ کا قیام
کانفرنس میں روایتی طب کی اہمیت کو تسلیم کرنے سے آگے بڑھ کر ٹھوس اور قابل پیمائش اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔ 24 ممالک کے وزرائے صحت نے روایتی طب کے حوالے سے جدت، سرمایہ کاری، پالیسی اور ضابطہ کاری پر تبادلہ خیال کیا جس کے نتیجے میں واضح، قابل حصول، متعلقہ اور وقت سے مشروط وعدے سامنے آئے۔
ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں نہ صرف یہ طے کیا گیا ہے کہ روایتی طب کیوں اہم ہے بلکہ یہ بھی کہ اس سے کام کیسے لینا ہے۔ اس میں شواہد کو مضبوط اور معیار و تحفظ کو یقینی بنانے، روایتی علم کی حفاظت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال اور محفوظ و موثر روایتی طب کو صحت کے نظام میں ضم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
'ڈبلیو ایچ او' نے اقدامات اور وعدوں پر مسلسل پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے 'روایتی طب پر تزویراتی و تکنیکی مشاورتی گروپ' کے قیام کا اعلان کیا جو آزاد ماہرین پر مشتمل باضابطہ مشاورتی ادارہ ہو گا۔
نئے پلیٹ فارمز
کانفرنس کے اختتام پر شرکا نے کہا کہ روایتی طب کے تناظر میں اصل کامیابی اس طرح جانچی جائے گی کہ دہلی اعلامیہ کو کس حد تک وقت سے مشروط ایسے قومی اقدامات میں بدلا جاتا ہے جن کی بنیاد تحقیق اور افرادی قوت کی ترقی میں سرمایہ کاری اور محفوظ و موثر روایتی طب کے ذمہ دارانہ انضمام پر ہو۔