انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: قحط ٹل گیا لیکن تین چوتھائی آبادی اب بھی غذائی قلت کا شکار

اکتوبر 2025 کو دیر البلاح، غزہ میں IHH ہیومینٹیرین ریلیف فاؤنڈیشن کے زیر انتظام کمیونٹی کچن میں بے گھر بچے گرم کھانے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔
UNOCHA/ Olga Cherevko غزہ کے علاقے دیرالبلح میں کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے (فائل فوٹو)۔

غزہ: قحط ٹل گیا لیکن تین چوتھائی آبادی اب بھی غذائی قلت کا شکار

انسانی امداد

اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں قحط کا خطرہ عارضی طور پر ٹل گیا ہے لیکن تین چوتھائی سے زیادہ آبادی تاحال شدید بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہے۔

غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے مطابق 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے بعد غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی اور تجارتی سامان کی رسائی میں بہتری آنے کے بعد کسی بھی علاقے میں قحط پھیلنے کا فوری خدشہ نہیں ہے جو بھوک کا پانچواں اور شدید ترین درجہ ہوتا ہے۔

Tweet URL

تاہم، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً پورا غزہ اب بھی ہنگامی درجے کی غذائی قلت (آئی پی سی کا چوتھا مرحلہ) کا شکار ہے۔ اکتوبر کے وسط سے نومبر کے اختتام تک تقریباً 16 لاکھ افراد یا زیر جائزہ آبادی کے لگ بھگ 77 فیصد کو بحرانی سطح (تیسرا مرحلہ) یا اس سے بدتر درجےکی بھوک کا سامنا تھا۔ ان میں 5 لاکھ سے زیادہ لوگ ہنگامی اور تباہ کن (پانچواں مرحلہ) بھوک کا سامنا کر رہے تھے۔ 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ تازہ ترین نتائج بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں مگر یہ بہتری انتہائی نازک ہے۔ فی الوقت غزہ میں قحط کا خطرہ نہیں ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو خوراک میسر ہے۔ تاہم، اب بھی 75 فیصد سے زیادہ آبادی کو شدید غذائی عدم تحفظ اور سنگین غذائی قلت کا خطرہ ہے۔ 

بچوں میں غذائی قلت

'آئی پی سی' کے مطابق، اپریل 2026 کے وسط تک تقریباً پانچ لاکھ 71 ہزار افراد ہنگامی حالات کا شکار رہیں گے جبکہ 1,900 افراد کو بدستور تباہ کن درجے کی بھوک کا سامنا ہو گا۔  بدترین حالات، جیسا کہ دوبارہ لڑائی شروع ہونے یا امدادی و تجارتی سامان کی ترسیل رک جانے کی صورت میں غزہ ایک مرتبہ پھر قحط کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ 

غزہ میں بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے غذائی قلت بدستور ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اندازے کے مطابق، اکتوبر 2026 کے وسط تک 6 سے 59 ماہ کی عمر کے تقریباً ایک لاکھ ایک ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوں گے، جن میں 31 ہزار سے زیادہ کی حالت انتہائی سنگین ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، تقریباً 37 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو علاج کی ضرورت پڑنے کا امکان ہے۔

پائیدار جنگ بندی کی ضرورت

'آئی پی سی' کے مطابق، اگرچہ غذائی امداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس سے صرف بنیادی بقا کی ضروریات ہی پوری ہو رہی ہیں۔ جنگ کے نتیجے صحت کی سہولیات، پانی اور صفائی کے نظام، رہائش اور روزگار کے ذرائع بری طرح متاثر ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں موسم سرما کی آمد پر لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ 

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ امدادی ٹیمیں لوگوں کو خوراک پہنچانے اور پانی و صحت کی سہولیات کو بحال کرنے کے لیےکوشاں ہیں لیکن امداد کے مقابلے میں ضروریات کہیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ بدترین حالات کو روکنے کے لیے حقیقی اور پائیدار جنگ بندی کی ضرورت ہے۔