افغانستان: غذائی قلت کا شکار افراد میں 20 لاکھ کا اضافہ، آئی پی سی
امدادی وسائل کی قلت دنیا بھر میں کمزور آبادیوں پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں لاکھوں بچے بھوک کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بچنے کے درکار ضروری غذائی مدد سے محروم ہیں۔
اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے اپنے تازہ ترین جائزے میں خبردار کیا ہے کہ سردیوں کے آغاز پر ایک کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افغان شدید خطرات سے دوچار ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے مطابق ملک میں غذائی قلت سے دوچار لوگوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔
'ڈبلیو ایف پی' کے عہدیدار جین مارٹن باور نے بنیادی خدمات کے لیے مالی وسائل کی غیرمعمولی کمی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کے ساتھ طبی مراکز کا رخ کر رہی ہیں کہ شاید انہیں کچھ مدد مل جائے مگر بیشتر حالات میں انہیں واپس لوٹا دیا جاتا ہے کیونکہ اب وسائل دستیاب نہیں رہے۔
خشک سالی، بیروزگاری اور نقل مکانی
ادارے کا کہنا ہے کہ افغانستان میں زمینی حقائق گہرے ہوتے انسانی بحران کا واضح اشارہ دے رہے ہیں۔ بہت سے خاندان بھوک کے باعث کئی روز فاقے کرنے پر مجبور ہیں۔ ملک میں 'ڈبلیو ایف پی' کے ڈائریکٹر جان ایلیف نے کہا ہے کہ لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے انتہائی اقدامات پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ بچوں کی اموات بڑھتی جا رہی ہیں اور آنے والے مہینوں میں صورت حال مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔
افغانستان کو سخت سرد موسم کا سامنا ہے جب کہ خشک سالی نے فصلیں تباہ کر دی ہیں، روزگار ختم ہو چکے ہیں اور حالیہ زلزلوں نے ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔ پاکستان اور ایران سے مہاجرین کی جبری واپسیوں نے بھی ضروریات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ رواں سال 25 لاکھ افراد واپس بھیجے گئے ہیں جن میں سے بہت سے پہلے ہی غذائی قلت کا شکار ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ امدادی وسائل میں مسلسل کمی آ رہی ہے جبکہ اسے موسم سرما کے دوران 60 لاکھ افراد کی جان بچانے کے لیے 46 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔