انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: ڈرون حملے میں 6 امن کاروں کی ہلاکت قابل مذمت، یو این چیف

لہٰذا ، پوری دُنیا میں یہوواہ کے گواہوں کے طور پر ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
UN Photo/Stuart Price اقوام متحدہ کے امن کار ایبیی میں مصروف عمل۔

سوڈان: ڈرون حملے میں 6 امن کاروں کی ہلاکت قابل مذمت، یو این چیف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سوڈان میں ادارے کے امن کاروں پر ڈرون حملے کی سخت مذمت کی ہے جس میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے چھ اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ آج ریاست جنوبی کردفان کے دارالحکومت کادوقلی میں پیش آیا جس میں اقوام متحدہ کے ایک انصرامی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔

Tweet URL

ہلاک ہونے والے تمام امن اہلکار ابیئی کے لیے اقوام متحدہ کی عبوری سکیورٹی فورس (یونیسفا) کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ابیئی سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان تیل کے ذخائر سے مالا مال علاقہ ہے جو 2011 کے بعد متنازع چلا آ رہا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے بنگلہ دیش اور اس کے عوام سے تعزیت کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن کاروں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

جنگ بندی کی اپیل

انتونیو گوتیرش نے کہا ہے، تنازع کے تمام فریقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے عملے اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔ حالیہ حملہ کسی صورت قابل جواز نہیں اور اس پر جوابدہی ضرور ہو گی۔

انہوں نے ان ہزاروں امن اہلکاروں سے بھی یکجہتی کا اظہار کیا ہے جو دنیا بھر کے خطرناک ترین حالات میں اقوام متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے سوڈان کے متحارب فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں، مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں اور جامع، ہمہ گیر اور سوڈانی عوام قیادت میں سیاسی عمل کی طرف بڑھیں۔

ممکنہ جنگی جرم

اقوام متحدہ میں شعبہ امن کاری کے سربراہ ژاں پیئر لاکوا نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن کاروں پر حملہ ہولناک ہے اور یہ جنگی جرم کے مترادف ہو سکتا ہے۔

یونیسفا کا قیام 2011 میں عمل میں آیا تھا اور اسے ابیئی پولیس سروس کی صلاحیت میں اضافہ کرنے، علاقے سے دونوں ممالک کی افواج کی واپسی کی نگرانی اور تصدیق، امداد کی فراہمی میں سہولت دینے اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جن میں حالیہ دنوں ایک سال کی توسیع کی گئی تھی۔

اس مشن کے تحت تقریباً چار ہزار فوجی اور پولیس اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں جن کے ساتھ غیرفوجی عملہ بھی شامل ہے۔