عراق میں یو این مشن کا اختتام ملک میں نئے باب کا آغاز، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے عراق کے لوگوں کی جرات، عزم اور استقامت کو سراہتے ہوئےکہا ہے کہ ملک میں اپنا طویل مشن ختم ہونے کے بعد بھی ادارہ انہیں امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر میں بھرپور تعاون فراہم کرتا رہے گا۔
عراق میں اقوام متحدہ کے 22 سالہ مشن (یونامی) کے اختتام پر دارالحکومت بغداد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں عراقی عوام کی پیش رفت دنیا کے لیے باعث تحریک ہے۔
انہوں نے دہائیوں پر محیط تشدد، جبر، جنگ، دہشت گردی، فرقہ واریت اور غیر ملکی مداخلت کا سامنا کرتے ہوئے ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور قانون کی حکمرانی اور جمہوری اداروں پر مبنی پرامن و جامع معاشرہ تعمیر کرنے کے عزم میں کبھی لغزش نہیں دکھائی۔
یونامی 2003 میں سابق صدر صدام حسین کے اقتدار کا خاتمہ ہونے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ اس مشن نے سیاسی مکالمے اور مفاہمت، انتخابی عمل میں معاونت، انسانی حقوق کے فروغ، اور عدالتی و قانونی اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا۔ مشن کی مدت 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ آج اقوام متحدہ اور عراق کی مشترکہ تاریخ کا ایک باب بند ہو رہا ہے اور دوسرا کھولا جا رہا ہے۔
مشن کی خدمات
انتونیو گوتیرش نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران عراق کی اہم کامیابیوں کا تذکرہ کیا جن میں 2005 کا آئین، متعدد قومی انتخابات اور دہشت گرد تنظیم داعش کی علاقائی شکست شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج عراق ایک ایسا ملک ہے جو امن کی راہ پر گامزن ہے، جہاں سکیورٹی میں اضافہ ہوا ہے اور ترقی کی دوڑ جیتنے کا واضح عزم موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشن نے عراق کی حکومتوں اور پارلیمان کو عدالتی اور قانونی اصلاحات پر مشورے دیے، انسانی حقوق کو فروغ دیا اور خواتین، نوجوانوں اور اقلیتوں کے لیے شہری و سماجی فضا کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کی۔
مزید برآں، جب داعش نے عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا تو یونامی نے شہریوں کے تحفظ اور لاکھوں بے گھر افراد کی مدد کے لیے بین الاقوامی تعاون کو منظم اور مربوط کرنے میں کردار ادا کیا۔ مشن نے جامع سیاسی مکالمے اور قومی مفاہمت کے فروغ کے لیے کام کیا، جن میں کرکوک میں اقتدار کی شراکت سے متعلق بات چیت بھی شامل ہے۔
علاوہ ازیں، ملک کے اندر بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کی محفوظ واپسی میں بھی مدد کی گئی جن میں شمال مشرقی شام کے الہول کیمپ سے واپس آنے والے افراد اور یزیدی اقلیتی برادری کے وہ ارکان بھی شامل ہیں جنہیں داعش کے ہاتھوں ظلم اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
عملے کو خراج تحسین
سیکرٹری جنرل نے یونامی کے تمام عملے کو خراج تحسین پیش کیا اور 19 اگست 2003 کو مشن کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی المناک یاد تازہ کی۔ اس واقعے میں مشن کے سربراہ سمیت 22 اہلکار جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
انہوں نے مشن کے عراقی عملے کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس نے برسوں تک مسلسل محنت کر کے اپنے ملک کی تعمیرنو اور استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
خطاب کے اختتام پر سیکرٹری جنرل نے اسی روز عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی سے ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے ادارہ جاتی مضبوطی، موثر حکمرانی اور احتساب، عوامی خدمات کی بہتری اور معاشی تنوع کے شعبوں میں عراق کی معاونت کے لیے اقوام متحدہ کے عزم کا اعادہ کیا۔