انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پانی کی بڑھتی طلب سے موجودہ ذرائع دباؤ کا شکار، ایف اے او کا انتباہ

میٹھے پانی کے مجموعی استعمال میں شعبہ زراعت کا حصہ 72 فیصد حصہ ہے۔
© WFP/Josh Estey
میٹھے پانی کے مجموعی استعمال میں شعبہ زراعت کا حصہ 72 فیصد حصہ ہے۔

پانی کی بڑھتی طلب سے موجودہ ذرائع دباؤ کا شکار، ایف اے او کا انتباہ

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران فی کس قابل تجدید پانی کی دستیابی میں سات فیصد کمی ہوئی ہے اور دنیا بھر میں میٹھے پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

ادارے کی جاری کرہ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبی قلت کا شکار علاقوں میں پانی کی طلب بڑھ رہی ہے، نتیجتاً بارشوں کے ذریعے دریاؤں اور زیرزمین ذخائر میں شامل ہونے والے پانی کی مقدار کم ہوتی جا رہی ہے جسے 'قابل تجدید پانی' بھی کہا جاتا ہے۔

Tweet URL

رپورٹ کے مطابق، جنوبی ایشیا، شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا ایسے خطے ہیں جہاں میٹھے پانی کے فی کس ذخائر سب سے کم ہیں جبکہ کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور یمن ایسے ممالک ہیں جہاں مجموعی قابل تجدید پانی کی مقدار دنیا میں کم ترین سطح پر ہے۔

پانی کا بڑھتا استعمال

حالیہ برسوں کے دوران کئی علاقوں میں میٹھے پانی کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے پہلے ہی دباؤ کے شکار دریائی اور زیرزمین آبی ذخائر پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ شمالی افریقہ میں میٹھے پانی کے استعمال میں 16 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جو سب سے زیادہ ہے۔

دنیا میں تقریباً 70 فیصد پانی سطح زمین جبکہ 23 فیصد زیرزمین موجود آبی ذخائر سے حاصل ہوتا ہے۔ زراعت اب بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ پانی صرف کرنے والا شعبہ ہے جس کا میٹھے پانی کے مجموعی استعمال میں 72 فیصد حصہ ہے۔ اس کے بعد صنعتی شعبہ 15 فیصد اور خدمات کا شعبہ 13 فیصد میٹھا پانی استعمال کرتا ہے۔

66 ممالک اپنے مجموعی میٹھے پانی کے 75 فیصد سے زیادہ حصے کو زراعت کے لیے مختص کرتے ہیں۔ افغانستان، عوامی جمہوریہ لاؤ، مالی، نیپال، صومالیہ اور سوڈان میں یہ شرح 95 فیصد ہے۔

رسد و طلب میں تبدیلی

رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف خطوں میں پانی کی دستیابی اور طلب دونوں تبدیل ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر شمالی افریقہ میں فی کس میٹھے پانی کی دستیابی دنیا بھر میں سب سے کم سطح پر ہے جہاں گزشتہ دس سال میں پانی کے استعمال میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک پر مشتمل مغربی ایشیا کی آبادی میں تیزرفتار اضافہ اور زرعی ضروریات محدود آبی وسائل پر بڑھتے دباؤ کا سبب بن رہے ہیں۔

'ایف اے او' نے بتایا ہے کہ لاطینی امریکہ اور ایشیا کے بعض حصوں میں فصلوں کی بیشتر پیداوار آبپاشی سے ہوتی ہے جبکہ ذیلی صحارا افریقہ میں مجموعی قابل کاشت زمین میں آبپاشی کا حصہ بہت کم ہے جس سے فراہمی آب کے بنیادی ڈھانچے تک عدم رسائی کی عکاسی ہوتی ہے۔

بحرین، مصر، سعودی عرب، سرینام اور ازبکستان میں 90 فیصد سے زیادہ قابل کاشت اراضی آبپاشی کے نظام سے استفادہ کرتی ہے۔ اس سے برعکس، تقریباً 35 ممالک میں آبپاشی قابل کاشت زرعی زمین کے ایک فیصد سے بھی کم کا احاطہ کرتی ہےجن میں زیادہ تر ذیلی صحارا افریقہ کے ملک شامل ہیں۔