انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: طبی سہولتوں میں بہتری لیکن سازوسامان کمیاب، ڈبلیو ایچ او

وہیل چیئر پر فلسطینی بچہ غزہ میں بحالی کے مرکز میں معالج سے جسمانی تھراپی حاصل کر رہا ہے۔
WHO غزہ کے علاقے خان یونس الامل ہسپتال میں زیر علاج لڑکا اکرم اپنی فریوتھیراپسٹ ڈاکٹر فائزہ برقان کے ساتھ (فائل فوٹو)۔

غزہ: طبی سہولتوں میں بہتری لیکن سازوسامان کمیاب، ڈبلیو ایچ او

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ غزہ میں طبی سہولیات کی دستیابی میں قدرے بہتری آئی ہے لیکن ادویات اور علاج معالجے کے سازوسامان کی شدید قلت اور سرد موسم کے باعث بیماریاں پھیلنے کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 'ڈبلیو ایچ او' کے سبکدوش ہونے والے نمائندے ڈاکٹر رک پیپرکورن نے اپنی آخری پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ غزہ کے 50 فیصد ہسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں مگر شمالی علاقے میں 37 ہزار افراد کو تاحال طبی مراکز تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے غزہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ انڈونیشین اور الاعودہ ہسپتال جنگ بندی لائن سے باہر واقع ہیں جبکہ کمال عدوان ہسپتال ان حدود میں آتا ہے جہاں کام کی اجازت ہے اور 'ڈبلیو ایچ او' نے وہاں ایک طبی مرکز قائم کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اس کی اجازت نہیں مل سکی۔

الشفا اسپتال میں تیسرے درجے کی طبی خدمات کی فراہمی بحال ہو گئی ہے۔ ادارے نے ہسپتال میں ڈیسیلینیشن پلانٹ کی مرمت میں مدد دی ہے جس سے گردوں کی صفائی کی سہولیات نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔

طبی آلات کی کمی

ڈاکٹر پیپرکورن نے کہا کہ طبی مراکز کی بحالی کا کام جاری ہے مگر تعمیراتی سامان علاقے میں لانے کی اجازت نہیں ہے۔ چنانچہ تباہ شدہ عمارتوں سے مواد جمع کر کے ہسپتالوں کی مرمت کی جا رہی ہے۔ دل کے عارضے، گردوں کی پیوندکاری، ڈائیلاسز، آرتھوپیڈکس، کیموتھراپی اور دیگر اہم شعبوں میں دواؤں، آلات اور طبی مواد کی شدید قلت ہے۔ ضروری ادویات کی فہرست میں شامل 50 فیصد یا تو دستیاب نہیں یا انتہائی کم مقدار میں موجود ہیں۔

میڈیکل امیجنگ، کارڈیک کیتھیرائزیشن اور اونکولوجی کی خدمات بھی ضرورت سے بہت کم ہیں۔ پورے غزہ میں ایک ایم آر آئی مشین بھی موجود نہیں اور 20 لاکھ سے زیادہ آبادی کے لیے صرف دو سی ٹی سکینر کام کر رہے ہیں۔

فراہمی و نکاسی آب کے مسائل

ڈاکٹر پیپرکورن نے کہا کہ سردی اور بارشوں، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے بگڑے نظام اور ناقص پناہ گاہوں کے باعث بیماریوں کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہزاروں خاندان نشیبی یا ملبے سے بھرے ساحلی علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جہاں نہ تو صفائی کا نظام ہے اور نہ حفاظتی بند موجود ہیں طوفان بائرن نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں شدید بارش کے باعث کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس سے محفوظ پناہ گاہ کے بغیر رہنے والے خاندانوں کی انتہائی خطرناک صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔ شدید موسم اور فراہمی و نکاسی آب کے شکستہ نظام کے سبب سانس کی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ بھی سر اٹھا رہا ہے۔

بیرون ملک علاج کی ضرورت

ڈاکٹر پیپرکورن نے بتایا کہ 'ڈبلیو ایچ او' نے اس ہفتے 25 مریضوں اور ان کے 92 مددگاروں کو اٹلی، ناروے، بیلجیئم اور رومانیہ منتقل کرنے میں مدد کی۔ اکتوبر 2023 سے اب تک ایسے 10,645 مریض منتقل کیے جا چکے ہیں جن میں 5,632 بچے بھی شامل ہیں۔

وزارتِ صحت کے ریکارڈ کے مطابق، جولائی 2024 سے 28 نومبر 2025 تک 1,092 مریض علاج کے لیے منتقلی کا انتظار کرتے موت کے منہ میں چلے گئے۔ تاہم ڈاکٹر پیپرکورن کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس وقت غزہ سے مجموعی طور پر 18,500 سے زیادہ مریضوں کو علاج کے لیے بیرون ملک منتقلی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے متعلقہ ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ مزید مریضوں کو قبول کریں اور مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم میں منتقلی کا عمل فوری طور پر بحال کیاجائے۔ ادارہ روزانہ کی بنیاد پر جہاں ممکن ہو طبی منتقلی میں مدد دینے کے لیے تیار ہے اور اس مقصد کے لیے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کا طبی راستہ کھولا جانا ضروری ہے۔