سوڈان: امدادی تنظیموں کو الفاشر میں ضرورت مندوں تک رسائی ملنے کی امید
سوڈان کی جنگ زدہ ریاست شمالی دارفور کا دارالحکومت الفاشر قتل گاہ کا منظر پیش کرتا ہے جہاں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے قبضے کے بعد بدترین تباہی پھیلی ہے اور شدید بھوک کے ستائے لوگ جانوروں کا چارہ کھانے پر مجبور ہیں۔
اقوام متحدہ کی امدادی ٹیموں نے خبردار کیا ہے کہ شہر میں تمام بنیادی سہولیات زندگی تباہ ہو گئی ہیں۔ علاقے تک امدادی رسائی تاحال ممکن نہیں ہو سکی اور عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ 70 ہزار سے ایک لاکھ تک لوگ تاحال علاقے میں پھنسے ہیں۔
امدادی اداروں کو امید ہے کہ انہیں جلد ہی شہر تک رسائی مل جائے گی۔ عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) میں ہنگامی تیاری اور امدادی اقدامات کے ڈائریکٹر راس سمتھ نے بتایا ہے کہ الفاشر کا مواصلاتی نظام تقریباً منقطع ہے اور شہر کے اندر رہ جانے والوں سے رابطہ انتہائی محدود ہے۔ ادارہ مسلسل مطالبہ کر رہا ہے کہ اسے الفاشر میں بلا روک ٹوک داخلے کی اجازت دی جائے تاکہ وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کی فوری مدد ہو سکے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ 'آر ایس ایف'کی جانب سے شہر میں داخلے کے لیے پیش کردہ چند شرائط پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے اور امید ہے کہ بہت جلد ضروریات کا ابتدائی جائزہ لیا جا سکے گا۔
'ڈبلیو ایف پی' کا امدادی اقدام
الفاشر سے نکلنے والے لوگوں نے بتایا ہے کہ راستے بارودی سرنگوں اور ان پھٹے گولہ بارود سے اٹے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے بیشتر لوگوں نے 70 کلومیٹر دور تاویلہ کا رخ کیا ہے جو کبھی ایک چھوٹا سا صحرائی قصبہ تھا مگر اب وہان 650,000 سے زیادہ بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔
اقوام متحدہ کی امدادی ٹیمیں اور ان کے شراکت دار ضرورت مند لوگوں تک رسائی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 'ڈبلیو ایف پی' کے تعاون سے امدادی قافلے سات لاکھ افراد کے لیے ایک ماہ کی خوراک لے کر تاویلہ جا رہے ہیں جہاں پناہ گاہوں کی کمی ہے، لوگ گھاس پھونس اور کھجور کے پتوں سے بنی عارضی جھونپڑیوں میں قیام پذیر ہیں اور ہیضہ و دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
نقل مکانی کا بدترین بحران
سوڈان کو نقل مکانی کے بہت بڑے بحران کا سامنا ہے جہاں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ اندرون و بیرون ملک بے گھر ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ ریاست جنوبی کردفان میں سلامتی کے حالات بھی بگڑ گئے ہیں جہاں بہت سے علاقے زیرمحاصرہ ہیں۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق، 18 نومبر سے شمالی کردفان سے 40 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ ادارہ اپنے شراکت داروں کے ذریعے بے گھر افراد کی فوری ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسے رسائی میں مسائل کا سامنا ہے۔