انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ریاض: بڑھتی نفرت کے دوران تہذیبوں کے اتحاد کا 11 واں فورم

ریاض، سعودی عرب
Riyadh, the capital of Saudi Arabia. ریاض، سعودی عرب

ریاض: بڑھتی نفرت کے دوران تہذیبوں کے اتحاد کا 11 واں فورم

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے زیراہتمام 'تہذیبوں کا اتحاد' اپنے قیام کے 20 سال مکمل ہونے پر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں 11واں عالمی فورم منعقد کر رہا ہے جس میں عدم برداشت اور اظہار نفرت پر قابو پانے اور کثیرقطبی دنیا میں باہمی احترام کو فروغ دینے پر بات چیت ہو گی۔

اس فورم کا بنیادی موضوع 'تہذیبوں کا اتحاد: انسانی مکالمے کے دو عشرے۔کثیر قطبی دنیا میں باہمی احترام و تفہیم کے نئے دور کا آغاز' رکھا گیا ہے۔ اس میں حکومتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندے، نوجوان رہنما، خواتین امن ساز اور صحافی شرکت کریں گے۔ فورم میں 'ریاض اعلامیہ' کی منظوری دی جائے گی جو اتحاد کے کام کے اگلے مرحلے کی سمت متعین کرے گا۔ اس موقع پر آئندہ برسوں کے لیے نئی شراکت داریوں اور معاہدوں کا اعلان کیا جائے گا اور 2027 تا 2031 لائحہ عمل کے لیے تجاویز پیش کی جائیں گی۔

اس موقع پر اتحاد کے 'گروپ آف فرینڈز' کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہو گا جس کے ارکان کی تعداد اب 161 ہو چکی ہے۔ اس میں متعدد اہم موضوعات پر مباحث ہوں گے جن میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی غلط معلومات کا تدارک، خواتین کا امن کے محاذ پر کردار، ہجرت اور اظہار نفرت کا خاتمہ بھی شامل ہیں۔

فورم میں نوجوانوں کا ویڈیو فیسٹیول بھی منعقد ہو گا جس میں اجنبیوں سے نفرت کا خاتمہ کرنے اور تنوع کے فروغ جیسے موضوعات نمایاں ہوں گے۔ علاوہ ازیں نوجوانوں کے فورم کا انعقاد بھی عمل میں آئے گا جس میں ایسے سابقہ شرکا نمایاں ہوں گے جو اتحاد کے مقاصد کے تحت اپنے علاقوں اور لوگوں میں نمایاں تبدیلی لائے ہیں۔

تہذیبوں کا اتحاد

تہذیبوں کا اتحاد امریکہ میں نائن الیون کے حملوں اور اس کے بعد بالی، میڈرڈ، لندن اور استنبول میں بم دھماکوں کے بعد وجود میں آیا جب سپین اور ترکیہ نے تہذیبی خلیج پاٹنے کے لیے ایک مشترکہ اقدام پیش کیا۔ 2005 میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اس اتحاد کا آغاز کیا جس کا مقصد شناخت کی بنیاد پر پیدا ہونے والے تنازعات کی روک تھام کرنا اور تنوع کو طاقت کا منبع بنانا تھا۔

'متنوع ثقافتیں، ایک انسانیت' کے نعرے تلے یہ اتحاد بین الثقافتی مکالمے کے لیے اقوام متحدہ کا نمایاں پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اس کا کام نوجوانوں کی شمولیت، تعلیم اور اطلاعاتی خواندگی کو فروغ دینا ہے۔ اتحاد ہجرت سے جنم لینے والے مسائل کا حل پیش کرنے اور نفرت انگیز تقاریر کے تدارک کا کام بھی کرتا ہے۔

اتحاد کے ذریعے خواتین کو امن ساز کے طور پر بااختیار بنانے سے لے کر کھیل اور فن کے ذریعے اتحاد پیدا کرنے تک کئی ایسے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جو تعصبات اور انتہا پسندی کی روک تھام کرتے اور شمولیت کو فروغ دیتے ہیں۔

ریاض فورم کی اہمیت

دنیا بھر میں جغرافیائی اور سیاسی تقسیم بڑھتی جا رہی ہے جبکہ عدم برداشت اور غیر ملکیوں سے نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ثقافتی اور مذہبی اختلافات کو تشدد اور محرومی کو جواز دینے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ نفرت انگیز اظہار بالخصوص اس کا آن لائن پھیلاؤ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نتیجتاً اعتماد میں کمی آ رہی ہے معاشرتی ہم آہنگی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

ایسے ماحول میں اس اتحاد کے پلیٹ فارم سے ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان باہمی احترام اور سمجھ بوجھ کو فروغ دینا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے اور ریاض فورم کا یہی مقصد ہے۔