ویکسین اور آٹزم میں کوئی تعلق نہیں، ڈبلیو ایچ او ماہرین
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کے ماہرین کی کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ ویکسین اور آٹزم کے درمیان کوئی تعلق موجود نہیں اور عالمگیر سائنسی شواہد کے تازہ ترین جائزے سے ثابت ہوا ہے کہ کسی بھی طرح کے حفاظتی ٹیکے اس بیماری کا سبب نہیں بنتے۔
کمیٹی کے مطابق، تازہ جائزے میں حمل کے دوران اور بچے کی اوائل عمری میں استعمال ہونے والی ویکسین کے مثبت اور محفوظ ریکارڈ کی توثیق ہوئی ہے۔ اس دوران ماہرین نے ایسی ویکسین سے متعلق خدشات کا جائزہ بھی لیا جن میں ایلومینیم نمکیات کی نہایت معمولی مقدار شامل ہوتی ہے جو جسم کو زیادہ مضبوط مدافعتی ردعمل پیدا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ویکسین کے تحفظ سے متعلق عالمی مشاورتی کمیٹی نے 27 نومبر کو اپنے اجلاس میں 2010 سے اگست 2025 تک شائع ہونے والے 31 بڑے تحقیقی مطالعات کا جائزہ لیا تھا۔ اس سےیہ سامنے آیا کہ تھیومرسال یا ایلومینیم کے اجزا پر مشتمل ویکسین آٹزم کا سبب نہیں بنتیں۔
ڈبلیوایچ او نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ ویکسین سے متعلق پالیسیوں کی بنیاد سائنسی شواہد پر ہونی چاہیے۔ بچوں کی عالمی سطح پر ویکسینیشن صحت، معیار زندگی اور معاشرتی خوش حالی میں بہتری کے حوالے سے بہت بڑا سنگ میل ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ پچاس برس میں ویکسین کی بدولت کم از کم 15 کروڑ 40 لاکھ جانیں بچائی گئی ہیں۔
ویکسین کے خلاف باطل دعوے
'ڈبلیو ایچ او' نے ویکسین کے محفوظ ہونے سے متعلق یہ توثیق امریکہ میں ویکسین اور آٹزم سے متعلق پرانے، غلط اور مسترد شدہ تصورات پر دوبارہ سیاسی بحث شروع ہونے کے بعد جاری کی ہے۔
ادارہ کہہ چکا ہے کہ ویکسین کو آٹزم سے جوڑنے کی گمراہ کن اور سائنسی طور پر غلط باتوں کو دہرانا نقصان دہ ہے اور موجود مضبوط اور وسیع سائنسی شواہد واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ بچپن میں لی جانے والی کوئی بھی ویکسین آٹزم کا باعث نہیں بنتی۔ اس حوالے سے کیے جانے والے دعوے برسوں پہلے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' نے واضح کیا ہے کہ دہائیوں پر محیط آزادانہ تحقیق ایک ہی نتیجہ دیتی ہے کہ ویکسین محفوظ، موثر اور صحت عامہ کے لیے ناگزیر ہیں۔ ادارہ اس حوالے سے نئے شواہد کا جائزہ لیتا رہے گا اور رکن ممالک کو بہترین سائنسی معلومات کی بنیاد پر مشوروں کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔