مجموعی صحت پر زور روایتی ادویات کی بڑھتی مقبولیت کا سبب، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) نے بتایا ہے کہ روایتی ادویات اور طریقہ ہائے علاج دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور رکن ممالک کی بھاری اکثریت میں 40 تا 90 فیصد آبادی ان سے کام لیتی ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کے عالمی مرکز برائے روایتی طب کی ڈائریکٹر شیاما کورویلا نے کہا ہے کہ دنیا کی نصف آبادی بنیادی صحت کی خدمات تک رسائی سے محروم ہے۔ ایسے حالات میں بہت سے لوگوں کے لیے روایتی طب ہی قریب ترین یا واحد دستیاب علاج ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اس وجہ سے یہ بھی طریقہ علاج پسند کرتے ہیں کہ یہ مخصوص بیماریوں کی علامات کا علاج کرنے کے بجائے مجموعی صحت اور جسمانی طبی توازن کو فروغ دیتا ہے۔
انہوں نے یہ بات روایتی طب پر 'ڈبلیوایچ او' کی دوسری عالمی کانفرنس سے قبل صحافیوں کے ساتھ ورچوئل بریفنگ میں کہی۔ یہ کانفرنس 17 سے 19 دسمبر تک انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں اور آن لائن منعقد ہو گی۔ اس میں پالیسی ساز، معالج، سائنس دان اور دنیا بھر سے مقامی و روایتی طبی علم کے ماہر شریک ہوں گے۔
کانفرنس کے شرکا 2034 تک روایتی طب سے متعلق 'ڈبلیوایچ او' کی عالمی حکمت عملی پر عمل درآمد کے بارے میں بات چیت کریں گے جو شواہد پر مبنی روایتی، تکمیلی اور مربوط طب کو فروغ دینے اور ضابطہ سازی و کثیر فریق تعاون سے متعلق رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
روایتی طب کیا ہے؟
'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، روایتی طب میں مختلف تاریخی اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے وہ تمام طریقہ علاج اور علم شامل ہیں جو حیاتیاتی ادویات اور روایتی جدید طبی طریقے متعارف ہونے سے بھی پہلے رائج تھے۔ روایتی طب فطرت پر مبنی ادویات اور ذاتی نوعیت کے جامع طریقوں پر زور دیتی ہے جن کا مقصد ذہن، جسم اور ماحول کے باہمی توازن کو بحال کرنا ہے۔
شیاما کورویلا کے مطابق، دائمی بیماریوں، ذہنی صحت کی ضرورتوں، تناؤ کے انتظام اور بامعنی علاج کی تلاش کے باعث دنیا بھر میں روایتی طب کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ تاہم ان طبی طریقوں کے وسیع پیمانے پر استعمال اور بڑھتی ہوئی ضرورت کے باوجود عالمی سطح پر صحت کے تحقیقی بجٹ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس شعبے کے لیے مختص ہے۔
کانفرنس کے مقاصد
شیاما کورویلا نے بتایا کہ اس کانفرنس کا مقصد ایسے حالات اور تعاون پیدا کرنا ہے جن کے ذریعے روایتی طب انسانیت اور کرہ ارض کی خوش حالی میں بڑے پیمانے پر کردار ادا کر سکے۔
اسی دوران 'ڈبلیوایچ او' ایک عالمی روایتی طبی لائبریری بھی شروع کر رہا ہے جو اپنی نوعیت کا پہلا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس میں اس موضوع پر 16 لاکھ سے زیادہ سائنسی ریکارڈ موجود ہوں گے۔
کانفرنس میں روایتی طب کے ڈیٹا نیٹ ورک اور مقامی علم، حیاتیاتی تنوع اور صحت سے متعلق فریم ورک سمیت دیگر اقدامات پر بھی بات ہو گی۔