انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جانیے موسمیاتی بحران سے نمٹنے میں مصروف ’چیمپئن آف ارتھ' بارے

ایک عورت اور ایک بچہ کچرے کے راستے پر، جو جنگل میں ہے، کیمرے سے دور چلتے ہیں، ہاتھ پکڑے ہوئے، جب سورج کی روشنی درختوں کے درمیان سے گزرتی ہے۔
© Unsplash/James Wheeler اعزاز پانے والے افراد و ادارے ماحولیاتی انصاف اور جنگلات کے تحفظ کے لیے مصروف عمل ہیں۔

جانیے موسمیاتی بحران سے نمٹنے میں مصروف ’چیمپئن آف ارتھ' بارے

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ) نے موسمیاتی تبدیلی کی رفتار سست کرنے اور پائیدار مستقبل کی جانب نمایاں کام کرنے والی پانچ شخصیات اور اداروں کو رواں سال کے 'چیمپئن آف ارتھ' اعزاز سے نوازا ہے۔

یہ غیرمعمولی افراد اور ادارے ماحولیاتی انصاف سے لے کر پائیدار ٹھنڈک اور جنگلات کے تحفظ تک مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں اور ان کی کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ جرات مندانہ اقدامات انسانوں اور کرہ ارض دونوں کے لیے حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

یونیپ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے اعزازات پانے والوں کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں موسمیاتی بحران کے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ان حالات میں معاشرے کے ہر شعبے میں ماحولیاتی جدت اور قیادت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔

2025 کے چیمپئنز آف ارتھ

امسال یہ اعزاز پانے والی شخصیات اور ان کے ادارے دنیا کو درپیش بعض انتہائی ہنگامی موسمیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیےکام کر رہے ہیں۔ ان میں موسمیاتی انصاف کی فراہمی، میتھین کے اخراج میں کمی لانا، پائیدار ٹھنڈک، موسمیاتی اعتبار سے پائیدار عمارتوں کی تعمیر اور جنگلات کا تحفظ شامل ہیں۔ اس سال چیمپئن آف ارتھ قرار دیے جانے والوں کے مختصر تعارف درج زیل ہے۔

چار افراد، جن میں سینتھیا ہونیوہی بھی شامل ہیں، پورٹ ویلا، وانواتو میں ایک راستے پر چلتے ہوئے بات کر رہے ہیں۔
© UNEP

سنتھیا یونی یوہی (جزائر سولومن)

ایک سال قبل سنتھیا ہونی یوہی نے ہیگ میں عالمی عدالت انصاف سے خطاب کرتے ہوئے یہ سادہ مگر واضح پیغام دیا کہ موسمیاتی تبدیلی بحرالکاہل کے جزائر بشمول ان کے آبائی سولومن جزائر کو تباہ کر رہی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے خلاف سنتھیا سمیت نوجوانوں کی قیادت میں قائم کردہ الکاہل کے جزائر کے طلبہ کی تنطیم نےعالمی عدالت سے تاریخی قانونی رائے حاصل کی جس میں کہا گیا تھا کہ تمام ممالک ماحولیاتی نقصان کو روکنے اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنے کے پابند ہیں۔

اس طرح وہ عالمی موسمیاتی قانون کو نئی شکل دے رہی ہیں اور کمزور ممالک کو بااختیار بنا رہی ہیں۔

سپریا ساہو ایک گرین ہاؤس میں پودوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے مسکرا رہی ہیں۔
© UNEP/Florian Fussstetter

سپریا ساہو (انڈیا)

انڈیا کی ریاست تامل ناڈو کی حکومت میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سپریا ساہو شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے لوگوں کے طریقہ کار تبدیل کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے شہروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے قدرتی ماحول کی بحالی، سکولوں کی ازسرنو ڈیزائننگ اور آب و ہوا کے موافق بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کوفروغ دینے کے اقدامات کیے ہیں۔

پائیدار ٹھنڈک اور ماحولیاتی بحالی کے لیے ان کی کوششوں کے نتیجے میں 25 لاکھ ماحول دوست روزگار پیدا ہوئے، جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہوا اور ایک کروڑ 20 لاکھ افراد نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے سامنے مضبوطی پائی۔

مریم ایسوفو، ایک خاتون معمار، اپنے اسٹوڈیو میں ایک جسمانی تعمیراتی ماڈل پر کام کرتی ہیں۔
© UNEP/Duncan Moore

مریم اسوفو (فرانس/نیجر)

مقامی مواد اور ثقافتی ورثے کو اپنی معمارانہ سوچ کا مرکز بنا کر مریم اسوفو ساہل خطے میں پائیدار اور موسمیاتی اعتبار سے مضبوط عمارتوں کے تصور کو نئی شکل دے رہی ہیں۔

وہ اپنے نام سے ایک تعمیراتی کمپنی چلاتی ہیں اور نیجر میں ان کے حکمہ کمیونٹی کمپلیکس جیسے منصوبے ایئرکنڈیشنر کے بغیر عمارتوں کو 10 ڈگری سیلسیئس تک ٹھنڈا رکھنے والی تکنیک کے عملی نمونے ہیں جو نوجوان معماروں کو بھی ایسے ہی اقدامات کے لیے متاثر کر رہے ہیں۔

ریٹاؤماریا پیریرا امازون کے بارش کے جنگل میں کھڑی ہے اور پودوں کی چھت (canopy) کی طرف دیکھ رہی ہے۔
© UNEP/Thomas Mendel

ایمازون (برازیل)

غیرمنفعی سائنسی تحقیقی ادارے ایمازون نے برازیل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے طریقہ کار وضع کیے ہیں جن سے جنگلات کی کٹائی کے حوالے سے پیشگی اندازہ لگانے اور اس رجحان کے خلاف پالیسی سازی میں مدد ملتی ہے۔ ان طریقہ کار کی بدولت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایمیزون کے جنگلات کا تحفظ بہتر بنانے میں مدد ملی ہے، جنگلاتی نظم و نسق میں بہتری آئی ہے اور جنگلات کی غیرقانونی کٹائی کا مسئلہ پوری طرح سامنے لایا گیا ہے۔

منفردی کالتا جیرونے سیلاب سے بھرے چاول کے کھیتوں کے درمیان مٹی کے راستے پر کھڑا ہے، جو بادل بھری آسمان کے نیچے واقع ہے۔
© UNEP

منفریڈی کالٹا جیونے (اٹلی)

میتھین کے اخراج میں کمی لانے اور اس کا بتدریج خاتمہ کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے آنجہانی منفریڈی نے یونیپ کے زیراہتمام میتھین کے اخراج کے نگران ادارے کی سربراہی کرتے ہوئے اس معاملے میں شفافیت اور سائنسی بنیادوں پر مبنی پالیسی کو آگے بڑھایا جس کی بدولت یورپی یونین نے پہلی مرتبہ میتھین کے اخراج سے متعلق ضابطے تشکیل دیے اور توانائی کی عالمی پالیسی کی سمت متعین ہوئی۔