امدادی کٹوتیاں: بحرانوں میں پھنسے کروڑوں بچوں کو مشکلات کا سامنا، یونیسف
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات، آفات، معاشی عدم استحکام اور دیگر ہنگامی حالات میں گھرے ہوئے بچے شدید خطروں سے دوچار ہیں جبکہ وسائل کی کمی کے باعث انہیں ضروری مدد فراہم کرنے کے منصوبے بند ہو رہے ہیں۔
یونیسف نے یہ انتباہ بحرانوں سے متاثرہ سات کروڑ 30 لاکھ بچوں کے لیے آئندہ سال سات ارب ڈالر سے زیادہ امدادی وسائل فراہم کرنے کی اپیل کرتے وقت جاری کیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ مسلح تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں سکولوں اور ہسپتالوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور غیرمعمولی تعداد میں بچوں کی نقل مکانی نے امدادی شراکت داروں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ادارے کی امدادی ٹیمیں انتہائی مشکل فیصلوں پر مجبور ہو رہی ہیں۔ انہیں محدود وسائل اور خدمات کو انتہائی ضرورت مند علاقوں کے بچوں تک محدود کرنا پڑا ہے۔ بہت سی جگہوں پر بچوں کو ملنے والی خدمات کی تعداد کم کی جا رہی ہے یا اس امداد میں کٹوتیاں کرنی پڑ رہی ہیں جس پر بچوں کی بقا کا انحصار ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ 2026 میں 20 کروڑ سے زیادہ بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہو گی۔
یونیسف نے دنیا بھر کی حکومتوں، عطیہ دہندگان اور نجی شعبے کے شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی بنیادی ضروریات پر سرمایہ کاری کو بڑھائیں، ہر جگہ قومی امدادی نظام کی معاونت کریں اور امدادی رسائی کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ حالات مزید بگڑنے سے پہلے صورتحال کو سنبھالا جا سکے۔