انسانی کہانیاں عالمی تناظر

حق تعلیم کا جدید خطوط پر ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت، یونیسکو

دنیا کے 82 فیصد ممالک مفت بنیادی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔
© UNESCO/Eduardo Martino دنیا کے 82 فیصد ممالک مفت بنیادی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔

حق تعلیم کا جدید خطوط پر ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت، یونیسکو

ثقافت اور تعلیم

1960 کے بعد سکولوں تک رسائی میں بڑی پیش رفت کے باوجود موسمیاتی بحران، تنازعات اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں سے جنم لینے والی بڑھتی عدم مساوات لاکھوں لوگوں کے لیے تعلیم کا حصول مشکل بنا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے خبردار کیا ہے کہ حق تعلیم کے عالمی قانونی ڈھانچے کو فوری طور پر جدت دینے کی ضرورت ہے تاکہ اسے تیزی سے بدلتی دنیا کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ ادارے کے ڈائریکٹر برائے ہمہ وقت تعلیم بورہین شکرون نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس ڈھانچے کو تبدیل نہ کیا گیا تو آبادی کا بڑا حصہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔

انہوں نے یونیسکو کی نئی رپورٹ بعنوان 'تعلیم کا حق: ماضی، حال اور مستقبل' کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تعلیم میں امتیازی سلوک کے خلاف 1960 کے کنونشن اور تعلیمی ایجنڈا 2030 کی منطوری کے بعد اس شعبے میں ہونے والی پیش رفت حقیقی ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں مفت پرائمری تعلیم کا منظرنامہ نمایاں طور پر بدلا ہے۔ 2000 میں 56 فیصد کے مقابلے میں آج 82 فیصد ممالک مفت بنیادی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کی شرح بھی بڑھی ہے۔ آج 88 فی صد بچے پرائمری تعلیم مکمل کرتے ہیں جبکہ 20 سال قبل یہ تعداد 77 فی صد تھی۔

تعلیمی عدم مساوات

رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر خطوں میں تعلیمی صنفی مساوات کا ہدف تقریباً حاصل ہو چکا ہے۔ اعلیٰ تعلیم نے حیران کن وسعت اختیار کر لی ہے۔ 2000 میں 10 کروڑ طلبہ کے مقابلے میں آج یہ تعداد 26 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ اضافہ کم ترقی یافتہ ممالک میں بھی نمایاں ہے۔ لیکن ان مثبت رجحانات کے باوجود تعلیمی شعبے میں شدید عدم مساوات اب بھی برقرار ہے۔

27 کرور 20 لاکھ بچے اب بھی سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ 76 کروڑ 20 لاکھ بالغ ناخواندہ ہیں جن میں دو تہائی تعداد خواتین کی ہے۔

کم آمدنی والے کئی ممالک میں 10 سال کی عمر کے 70 فی صد بچے ایک سادہ سا جملہ پڑھ کر سمجھ نہیں پاتے جو کہ سیکھنے کے معیار میں تنزلی کا انتہائی خطرناک اشارہ ہے۔ غربت، تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی، کمزور ڈھانچہ، سیاسی عدم استحکام اور موسمیاتی دھچکے اس بحران کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اور اے آئی

بورہین شکرون کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بڑے بحرانوں سے تعلیمی نظام پر بھی غیرمعمولی دباؤ آ رہا ہے۔ گزشتہ سال ہی موسمیاتی حوادث نے 24 کروڑ سے زیادہ بچوں کی تعلیم کو متاثر کیا۔

یونیسکو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ مضبوط تعلیمی نظام، اساتذہ کی بہتر تربیت اور ہائبرڈ و فاصلاتی تعلیم کے پھیلاؤ کی اپیل کرتا ہے جو کووڈ وبا کے دوران سیکھے گئے اسباق پر مبنی ہے۔

تنازعات بھی لاکھوں بچوں کو معیاری تعلیم سے محروم کر رہے ہیں اور خاص طور پر سرحد پار نقل مکانی کرنے والے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

تیزی سے ترقی پاتی مصنوعی ذہانت بھی بہت سے ترقی پذیر خطوں میں تعلیم کو متاثر کر رہی ہے۔اس ٹیکنالوجی کی تیاری و استعمال میں انسانیت کو مرکزی اہمیت ملنی چاہیے۔ یونیسکو مضبوط ضوابط، اساتذہ کی تربیت اور ایسے آلات کی ضرورت پر زور دیتا ہے جو سیکھنے کو حقیقی طور سے بہتر بنائیں۔

ہمہ وقت تعلیم

محنت کی منڈیوں میں آنے والی وسیع تر تبدیلیوں کے تناظر میں یونیسکو کا کہنا ہے کہ اب بالغوں، کارکنوں اور معمر افراد کی مسلسل تعلیم ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری ضروری ہے وگرنہ بہت سے لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور سماج سے کٹ جائیں گے۔

اس معاملے میں بہت سے ممالک پہلے ہی اصلاحات لا چکے ہیں۔ فرانس کا انفرادی تربیتی اکاؤنٹ کارکنوں کو مہارت بڑھانے کے لیے مالی مدد دیتا ہے۔ سنگاپور میں نئی صلاحیتیں سکھانے کا پروگرام تمام شہریوں کو یہ مواقع فراہم کرتا ہے۔ آسٹریلیا کم ہنرمند بالغوں کو بنیادی سرٹیفیکیشن کے ذریعے سہارا دیتا ہے جبکہ مراکش نے پیشہ ورانہ تربیت کے حق کو اپنے آئین میں شامل کر لیا ہے۔