انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین: بموں کی گھن گرج میں لوگوں کو یخ بستہ موسم سرما کا سامنا، یو این

موسم سرما کی ضرورتیں عروج پر ہیں لیکن امدادی وسائل میں شدید کمی آ  رہی ہے۔
© UNICEFAndriy Vashkiv
موسم سرما کی ضرورتیں عروج پر ہیں لیکن امدادی وسائل میں شدید کمی آ رہی ہے۔

یوکرین: بموں کی گھن گرج میں لوگوں کو یخ بستہ موسم سرما کا سامنا، یو این

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ یوکرین کے جنگ سے نڈھال شہری بمباری تلے ایک اور موسم سرما گزارنے کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ توانائی کے ڈھانچے پر بڑھتے حملوں اور امداد میں کمی کے نتیجے میں ان کی مشکلات بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔

قیام امن و سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر میں یورپ و وسطی ایشیا ڈویژن کی ڈائریکٹر کیوکو گوتو نے یوکرین کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چار سال قبل روس کا حملہ شروع ہونے کے بعد 2025 شہریوں کے لیے مہلک ترین سال رہا۔

Tweet URL

جنوری سے نومبر تک شہری ہلاکتیں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ رہیں۔ اس کی بڑی وجہ ملک بھر میں روس کے فضائی حملوں میں آنے والی تیزی تھی۔ روس میں مقامی حکام نے بھی یوکرینی حملوں سے شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاع دی ہے۔

کیوکو گوتو نے واضح کیا کہ شہریوں اور شہری ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع اور ناقابل قبول ہیں جنہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

ہزاروں ہلاکتیں

یوکرین پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے متعدد علاقوں میں توانائی اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بار بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ 5 اور 6 دسمبر کی درمیانی رات روس کے بڑے حملوں میں درجنوں شہری زخمی ہوئے اور 10 علاقوں میں لاکھوں لوگ بجلی اور متعدد بنیادی خدمات سے محروم ہو گئے۔

فروری 2022 سے لے کر اب تک اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے یوکرین میں کم از کم 14,775 شہریوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے جن میں 755 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 39,322 لوگ زخمی ہوئے۔

بحیرہ اسود کے خطے میں بھی حملوں کی اطلاع ملی ہے جن میں یوکرینی فوج نے روس کےآئل ٹینکروں اور بحیرہ آزوف کی بندرگاہ پر حملے کیے جبکہ روسی فوج کی جانب سے یوکرینی بندرگاہ اوڈیسا کو نشانہ بنایا گیا۔

شہری زندگی پر منظم وار

کیوکو گوتو نے بتایا کہ فوری جانی نقصان سے ہٹ کر بجلی اور حرارتی نظام کی تباہی پوری آبادی کو بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ موسم سرما کے وسط میں توانائی کے ڈھانچے پر منظم حملے لاکھوں لوگوں کو قابل بھروسہ حرارت، پانی اور نقل و حمل کے ذرائع سے محروم کر سکتے ہیں۔ کئی علاقوں میں 12 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے سبب پورے پورے رہائشی بلاک حرارت اور پانی سے محروم ہو رہے ہیں۔

ایک مقامی ڈاکٹر نے اقوام متحدہ کی ٹیم کو بتایا کہ لوگ کچھ وقت تک بجلی کے بغیر گزارا کر سکتے ہیں مگر حرارت کے بغیر رہنا ممکن نہیں اور معمر مریض چند ہی گھنٹے میں سردی سے نڈھال ہو جاتے ہیں۔

2.3 ارب ڈالر کی ضرورت

امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جب موسم سرما کی ضرورتیں عروج پر ہیں اس وقت امدادی وسائل میں شدید کمی آ  رہی ہے۔ اس موسم میں ملک کو 279 ملین ڈالر کے وسائل درکار ہیں جن میں سے صرف دو تہائی رقم ہی وصول ہو سکی ہے۔ نتیجتاً حرارت کی سہولت، نقد امداد، ذہنی صحت کی خدمات اور خواتین و لڑکیوں کے تحفظ جیسے اہم شعبوں میں کٹوتیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔

2026 کے وسیع تر امدادی منصوبے کے تحت یوکرین میں 41 لاکھ افراد کی مدد کے لیے 2.3 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی امداد

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کی نائب رابطہ کار جوئس مسویا نے سفیروں کو بتایا کہ امسال تقریباً 44 بین الاداری قافلوں کے ذریعے محاذ جنگ کے قریب رہنے والے 50 ہزار شہریوں تک خوراک، طبی امداد اور موسم سرما کا سامان پہنچایا گیا ہے۔ رسائی کی صورت حال غیرمستحکم ہے اور امدادی کارکنوں کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کے لوگ بہتر حالات کا انتظار کرنے کی ہمت نہیں رکھتے وہ اس جنگ کا چوتھا سرما گولیوں کی بوچھاڑ اور تاریکی میں گزار رہے ہیں۔ انہیں اس کونسل سے صرف ہمدردی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔