بحران زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے ایک ارب ڈالر کی اپیل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ادارے کے مرکزی ہنگامی امدادی فنڈ (سی ای آر ایف) میں ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فنڈ دنیا بھر کے بحران زدہ علاقوں میں زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
'سی ای آر ایف' کے لیے وسائل جمع کرنے کے مقصد سے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ اجلاس میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امدادی ضروریات میں اضافے کے ساتھ فنڈ میں جمع وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اور لاکھوں زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ 20 برس قبل اس فنڈ کو قائم کرتے وقت عالمی برادری نے وعدہ کیا تھا کہ جب آفت آئے گی تو مدد ضرور پہنچے گی۔ آج اس وعدے کو دوبارہ نبھانے کا وقت ہے۔
اس فنڈ کے ذریعے مسلح تنازعات اور موسمیاتی تباہی سے متاثرہ لوگوں کو فوری مدد فراہم کی جاتی ہے۔ 2006 سے اب تک اس کے ذریعے 110 سے زیادہ ممالک میں تقریباً 10 ارب ڈالر تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ یہ مالی امداد فوری طور پر وہاں پہنچائی جاتی ہے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
لاکھوں زندگیوں کا تحفظ
سیکریٹری جنرل نے کہا کہ 'سی ای آر ایف' نے بہت سے مواقع پر سب سے پہلے مدد مہیا کر کے لاکھوں زندگیوں کو تحفظ دیا ہے۔ غزہ میں جب امدادی رسائی ممکن ہوئی تو اس فنڈ نے ہسپتالوں، پانی کے نظام اور دیگر اہم خدمات کو چلانے کے لیے ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی۔ 2022 میں جب یوکرین میں مکمل جنگ چھڑ گئی تو یہ فنڈ چند گھنٹوں کے اندر سرگرم ہو گیا تھا۔
رواں سال ہی تقریباً 11 کروڑ ڈالر ان بحران زدہ علاقوں میں فراہم کیے گئے جو توجہ سے محروم رہے ہیں۔ ان میں افغانستان اور صومالیہ بھی شامل ہیں۔ اکتوبر میں جب سمندری طوفان میلیسا غرب الہند کی طرف بڑھ رہا تھا تو وہاں بھی متاثرہ ممالک کو مالی وسائل مہیا کیے گئے اور آبادیوں کے انخلا میں مدد فراہم کی گئی۔
خطرے کی گھنٹیاں
'سی ای آر ایف' کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک، علاقائی حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، نجی شعبے، عام لوگوں اور دیگر عطیہ دہندگان کی معاونت حاصل ہے۔ تاہم، اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی امدادی رابطہ کار ٹام فلیچر نے بتایا ہے کہ اس سال عطیات میں نمایاں کمی آئی ہے جو گزشتہ ایک دہائی کی کم ترین سطح تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب پوری قوت سے کام کرنے کی ضرورت ہے تو خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ اگر 'سی ای آر ایف' ناکام ہوا تو ہنگامی امدادی نظام ناکام ہو جائے گا اور وہ لوگ بری طرح متاثر ہوں گے جو بدترین ہنگامی حالات میں اس فنڈ پر انحصار کرتے ہیں۔
اجلاس کے دوران ٹام فلیچر نے سب سے کم وسائل پانے والے بحران زدہ علاقوں کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی نئی امداد کا اعلان کیا جو ان کے مطابق 2025 میں حاصل ہونے والی متوقع مجموعی آمدنی کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔
امید کی کرن
اس اجلاس کی میزبانی آئرلینڈ اور فلپائن نے کی۔ اس موقع پر آئرلینڈ کے وزیر مملکت برائے بین الاقوامی ترقی نیل رچمنڈ نے کہا کہ ان کا ملک آئندہ سال فنڈ کے لیے مزید 10 لاکھ یورو فراہم کرے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے مسائل کے حقیقی سیاسی حل درکار ہیں لیکن فی الوقت یہ دور دکھائی دیتے ہیں اور تب تک بحران زدہ لوگوں کی مدد جاری رکھنا ہو گی۔
فلپائن اب تک 'سی ای آر ایف' کو تقریباً 10 لاکھ ڈالر عطیہ کر چکا ہے۔ ملک کی وزیر خارجہ تھیریسا لاسارو نے اس کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا نومبر میں سمندری طوفان فنگ ونگ آنے سے چند ہی روز قبل فنڈ نے فوری طور پر تقریباً 60 لاکھ ڈالر فراہم کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک، پناہ اور صحت جیسی بنیادی خدمات کی ہنگامی بنیاد پر فراہمی یقینی بنانے والا یہ فنڈ متاثرین کے لیے امید کی کرن ہے۔