سوڈان: خانہ جنگی سے تنگ لاکھوں بچوں کا خواب امن، یونیسف چیف
سولہ سالہ ناہید سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں اپنے خاندان کے ساتھ عید منانے گئی تھیں کہ ملک میں عسکری دھڑوں کے مابین لڑائی چھڑ گئی۔ وہ اپنے رشتہ داروں کے پاس جس گاؤں میں آئی تھیں وہاں بھی مسلح افراد نے حملہ کیا جس میں ان کے دادا اور چچا ہلاک ہو گئے۔
اس حملے میں بہت سے لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا اغوا کر لیا گیا۔ ناہید کسی نہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب رہیں لیکن یہ واقعات ان کے لیے نہایت ہولناک تھے جن کی یاد ان کے ذہن پر نقش ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے سوڈان کا دورہ کرنے کے بعد صحافیوں کو ناہید کے ساتھ پیش آنے والے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ سوڈان میں ان جیسے ہزاروں بچوں کو یہی کچھ دیکھنا پڑا ہے۔
انہوں نے سوڈان میں بچوں اور بنیادی خدمات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے جہاں اندازاً ایک کروڑ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے۔
تشدد، بھوک اور خوف
سوڈان اس وقت دنیا کے بدترین انسانی بحران سے گزر رہا ہے جو 2023 میں اس وقت شروع ہوا جب ملکی مسلح افواج اور نیم عسکری ریپڈ سپورٹ فورسز کے مابین لڑائی چھڑ گئی تھی جو تاحال جاری ہے۔
کیتھرین رسل نے مشرقی سوڈان کے علاقے کسالہ کے دورے میں ان خواتین اور لڑکیوں سے ملاقات کی جو یونیسف کے تعاون سے قائم ایک امدادی مرکز میں نفسیاتی معاونت اور ہنر کی تربیت حاصل کر رہی تھیں۔ ان میں سے بہت سی خواتین تشدد سے بچ کر یہاں پہنچیں اور انہیں اس مرکز میں پناہ اور نگہداشت میسر آئی۔ تاہم، دارفور اور کردفان کی ریاستوں میں مسلسل جاری بدامنی کے باعث ایسے مراکز کی تعداد بہت کم ہے۔
کیتھرین رسل نے کہا کہ سوڈان کے بچے مسلسل تشدد، بھوک اور خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں پر اس بحران کا سب سے بھاری بوجھ ہے جنہیں ہولناک پیمانے پر جنسی تشدد کا سامنا ہے۔
بیت الخلا اور روٹی کا مطالبہ
جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایف پی اے) کی نمائندہ فبریزیا فالچیونے نے بتایا ہے کہ وہ الفاشر سے آنے والی ان متاثرہ خواتین سے ملی ہیں جن کے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ جنسی تشدد کا شکار ان خواتین میں سے کسی کو زچگی سے پہلے ایک مرتبہ بھی طبی معائنے کی سہولت میسر نہیں آئی۔ یہ خواتین ہسپتال جانے کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتیں۔
ان کا کہنا ہے جب انہوں نے بے گھر خواتین سے پوچھا کہ انہیں سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے تو جواباً انہوں نے بیت الخلا اور روٹی کا مطالبہ کیا جبکہ روزگار کمانے کا موقع ان کی تیسری ترجیح تھا۔
انہوں نے بتایا کہ نقل مکانی کرنے والی خواتین کے خیموں کے قریب کہیں بیت الخلا نہیں ہوتا اور نہ ہی رات کے وقت کیمپ میں روشنی ہوتی ہے۔ یہ سب حاملہ خواتین ہیں جن کے گھروں میں کوئی مرد موجود نہیں۔
امن کی خواہش
شمالی دارفور میں الفاشر کے اندر اور اردگرد جاری لڑائی کے باعث اکتوبر کے آخر سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
'یو این ایف پی اے' دیگر امدادی اقدامات کے علاوہ جنسی تشدد سے متاثرہ خواتین کو زچگی کی دیکھ بھال اور نفسیاتی مدد فراہم کر رہا ہے جبکہ یونیسف بے سہارا بچوں کی نشاندہی و رجسٹریشن، صاف پانی کی فراہمی اور دیگر خدمات کی بحالی میں مصروف ہے۔
کیتھرین رسل کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دورے میں جہاں بھی گئیں وہاں بچوں نے ایک ہی خواہش ظاہر کی کہ انہیں امن چاہیے۔ دنیا کو ان کی یہ خواہش پوری کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔