انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین: شہریوں کو روس کے بڑھتے حملوں میں شدید مشکلات کا سامنا، یو این

یوکرین کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔
© UNOCHA/Iryna Chernysh یوکرین کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔

یوکرین: شہریوں کو روس کے بڑھتے حملوں میں شدید مشکلات کا سامنا، یو این

انسانی حقوق

یوکرین میں روس کے میزائل اور ڈرون حملوں سے روزانہ بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور توانائی کے ڈھانچے کو بدترین تباہی کا سامنا ہے۔

ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے نگران مشن (ایچ آر ایم ایم یو) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ رواں سال یکم جون سے 30 نومبر تک محاذ جنگ کے قریب اور شہری علاقوں میں لوگوں کی اموات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

Tweet URL

جولائی 2022 کے بعد اپریل 2025 سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ ثابت ہوا جس میں 1,420 شہری ہلاک اور 6,545 زخمی ہوئے۔ ان میں 61 طبی کارکن، 99 ہنگامی خدمات پہنچانے والے اہلکار، چھ صحافی اور 13 امدادی کارکن شامل تھے۔

مغربی یوکرین نے بھی اس جنگ کے مہلک ترین حملے کا سامنا کیا جب 19 نومبر کو ٹرنوپل میں ڈرون اور میزائل داغے جانے سے کم از کم 36 شہری مارے گئے۔

شہری تنصیبات کی تباہی

مشن کی سربراہ ڈینیئل بیل نے بتایا ہے کہ محاذ جنگ سے متصل علاقوں میں رہائشی عمارتوں اور اہم شہری ڈھانچے کو بمباری، ڈرون اور میزائل حملوں سے شدید نقصان پہنچا جس کے باعث بعض علاقے ناقابل رہائش ہو گئے اور لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ جنگ کا سامنا کرنے والے شہروں کے کئی ہسپتال اور کلینک بھی تباہ ہو گئے ہیں یا انہیں بند کرنا پڑا ہے جبکہ حملوں کے نتیجے میں پانی اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔

اکتوبر اور نومبر کے دوران روس نے یوکرین کے توانائی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں کی آٹھ مربوط کارروائیاں کیں جن کے نتیجے میں ہنگامی لوڈ شیڈنگ معمول بن گئی جو بعض علاقوں میں روزانہ 18 گھنٹے تک جاری رہی جبکہ پانی اور حرارت کی فراہمی بھی کئی گھنٹوں یا دنوں تک معطل رہی۔

جنگی قیدیوں کا قتل

رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک نے 2022 کے بعد جنگی قیدیوں کا سب سے بڑا تبادلہ کیا جس میں دونوں جانب سے 3,000 سے زیادہ افراد رہا کیے گئے۔ تاہم قیدیوں سے برتاؤ میں کسی بہتری کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ قیدیوں کے ساتھ منظم اور وسیع پیمانے پر تشدد اس جنگ کی سب سے ہولناک اور عام بات ہے۔

مشن نے جنگی قیدیوں کے ماورائے عدالت قتل میں اضافے کی بھی نشاندہی کی ہے۔ روسی فوج کے ہاتھوں گرفتار کیے جانے کے بعد 10 یوکرینی فوجیوں کے قتل کے کم از کم چار واقعات کو قابل اعتبار قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح، یوکرین کی فوج کے ہاتھوں روسی جنگی قیدیوں کے قتل کے چار واقعات ریکارڈ کیے گئے جبکہ تین دیگر واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔

حراستی مراکز میں تشدد

ایک یوکرینی جنگی قیدی نے روس کے حراستی مرکز میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ قیدیوں کو تقریباً روزانہ مارا پیٹا جاتا تھا۔ ہر مرتبہ جب وہ تلاشی، طبی معائنے یا غسل کے لیے اپنی کوٹھڑیوں سے باہر جاتے تو محافظ انہیں تشدد کا نشانہ بناتے۔ خود انہیں کئی مرتبہ اس قدر بری طرح پیٹا گیا کہ ان کا جسم ہفتوں درد کرتا رہا۔

ڈینیئل بیل نے بتایا کہ حال ہی میں روس نے 187 یوکرینی جنگی قیدیوں کو رہا کیا جن میں سے 185 نے شدید تشدد کی تفصیلات بتائیں جس میں مارپیٹ، تکلیف دہ جسمانی حالت میں رکھا جانا، برقی جھٹکے، گھٹن، کتوں کے حملے اور کئی واقعات میں جنسی تشدد بھی شامل تھا۔

مشن کے ارکان نے یوکرین کے زیرحراست رہنے والے 137 روسی جنگی قیدیوں سے بھی بات کی جن میں 10 تیسرے ممالک کے شہری تھے۔ ان میں سے نصف سے زیادہ نے پوچھ گچھ یا منتقلی کے دوران تشدد اور بدسلوکی کی تصدیق کی۔ ایک روسی جنگی قیدی نے بتایا کہ اس کے پاس کوئی معلومات نہیں تھیں لیکن اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

زیرقبضہ علاقوں میں حقوق کی سلبی

روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں میں حکام نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نقل و حرکت، اظہار رائے، مذہبی آزادی اور معلومات تک رسائی پر مزید سخت پابندیاں عائد کیں۔ مارچ میں روس نے ایک حکم جاری کیا جس کے مطابق ان علاقوں میں رہنے والے یوکرینی شہریوں کو 10 ستمبر تک روسی پاسپورٹ، رہائشی اجازت نامہ یا کوئی اور شناختی دستاویز حاصل کرنے کا پابند کیا گیا۔ بصورت دیگر انہیں ملک بدری کی سزا دی جانا تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انتہائی مشکل اور خطرناک حالات حتیٰ کہ امدادی کارکنوں پر حملوں کے باوجود یوکرینی حکام اور امدادی تنظیمیں شہریوں کی مدد کے لیے بڑے پیمانے پر انخلا، عبوری پناہ گاہوں کے قیام اور طبی، نفسیاتی و قانونی مدد فراہم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔