انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ جنگ: بھوک سے نڈھال ماؤں کو قبل از وقت پیدائشوں کا سامنا، یونیسف

غزہ کے ایک ہسپتال میں غذائیت کی کمی کا شکار زیرعلاج بچہ۔
© UNICEF/Rawan Eleyan غزہ کے ایک ہسپتال میں غذائیت کی کمی کا شکار زیرعلاج بچہ۔

غزہ جنگ: بھوک سے نڈھال ماؤں کو قبل از وقت پیدائشوں کا سامنا، یونیسف

انسانی امداد

غزہ میں بھوک سے نڈھال بہت سی ماؤں کے ہاں انتہائی کم وزن اور قبل از وقت بچے پیدا ہو رہے ہیں جو عموماً طبی مراکز میں ہی دم توڑ دیتے ہیں، یا شدید غذائی قلت کے باعث زندگی کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی ترجمان ٹیس انگرام نے بتایا ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران کم از کم 165 بچے غذائی قلت کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین شدید بھوک کا شکار ہیں اور صحت بخش خوراک کی کمی کا ہولناک سلسلہ وار اثر ہزاروں نوزائیدہ بچوں تک منتقل ہو رہا ہے۔

Tweet URL

انہوں نے بتایا کہ وہ ہسپتالوں میں ایسے کئی نوزائیدہ بچے دیکھ چکی ہیں جن کا وزن ایک کلوگرام سے بھی کم تھا۔ غزہ سے جنیوا میں ویڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں میں معمول کے وزن والے بچوں کے مقابلے میں جلد موت کا خطرہ 20 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، جنگ سے قبل ہر ماہ اوسطاً 250 ایسے بچے پیدا ہوتے تھے جن کا وزن 2.5 کلوگرام سے کم ہوتا تھا۔ رواں مال کی پہلی ششماہی میں شرح پیدائش کم ہونے کے باوجود کم وزن بچوں اور قبل از وقت زچگی کی شرح 10 فیصد ہو گئی تھی۔ یہ روزانہ 15 بچوں کے برابر ہے جو جنگ سے پہلے کی اوسط کا تقریباً دو گنا ہے۔

یونیسف کے امدادی اقدامات

ترجمان نے مزید بتایا کہ صرف اکتوبر میں ہی 8,300 حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو شدید غذائی قلت کے علاج کے لیے طبی مراکز میں داخل کیا گیا جبکہ اکتوبر 2023 سے پہلے ایسی خواتین میں غذائی قلت کا نمایاں وجود نہیں تھا۔ غالب امکان ہے کہ غزہ میں آئندہ کئی مہینوں تک کم وزن بچے پیدا ہوتے رہیں گے۔

اقوام متحدہ نے نومولود بچوں کی زندگی کو تحفظ دینے کے لیے طبی مراکز میں انکیوبیٹر، وینٹی لیٹر اور دیگر ضروری آلات فراہم کیے ہیں۔ یونیسف حاملہ اور دودھ پلانے والی ہزاروں خواتین کو غذائی سپلیمنٹ دے رہا ہے، بچوں میں غذائی قلت کی جانچ کی جا رہی ہے اور انہیں علاج مہیا کیا جا رہا ہے۔ تاہم موثر اور بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔

رفح کراسنگ کھولنے کی اپیل

ٹیس انگرام نے بتایا کہ جنوبی غزہ میں رفح کراسنگ کھولنے سے امدادی ٹرکوں کی آمد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ غذائیت سے بھرپور خوراک کی تجارتی بنیاد پر فراہمی بھی ضروری ہے تاکہ مقامی منڈیوں میں اشیا دوبارہ دستیاب ہوں، قیمتیں کم ہوں اور پھل، سبزیاں، گوشت اور دودھ جیسی غذائیں لوگوں تک پہنچ سکیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی غزہ کے لوگوں کے لیے مزید نقصان کے بجائے تحفظ کا باعث ہونی چاہیے جبکہ 10 اکتوبر کے بعد بھی 70 سے زیادہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنگ کے دوران پیدا ہونے والی نسل اس تباہی کے زخم ہمیشہ ساتھ لیے پھرے گی۔

ہسپتالوں، غذائیت کے مراکز اور خیموں میں ماؤں اور بچوں پر اس جنگ کے دور رس اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ خون دیگر زخموں کی طرح نظر نہیں آتا مگر ہر جگہ موجود ہے۔ ماں سے بچے تک منتقل ہونے والے غذائی قلت، ذہنی دباؤ اور بے گھری کے اثرات کو روکا جا سکتا تھا اور روکا جانا چاہیے تھا۔ کسی بچے کو اپنی پہلی سانس لینے سے پہلے ہی جنگ کے داغ نہیں ملنے چاہئیں۔ اگر بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام کیا جاتا تو لوگوں کو اس قدر تکالیف اٹھانا نہ پڑتیں۔