انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: یو این چیف کی اطفال ہسپتال پر ہلاکت خیز حملے کی کڑی مذمت

کردفان کے علاقے کالوجی میں ہسپتال کو کم از کم تین مرتبہ نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 114 افراد ہلاک ہوئے جن میں 63 بچے بھی شامل ہیں۔
© UNFPA
کردفان کے علاقے کالوجی میں ہسپتال کو کم از کم تین مرتبہ نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 114 افراد ہلاک ہوئے جن میں 63 بچے بھی شامل ہیں۔

سوڈان: یو این چیف کی اطفال ہسپتال پر ہلاکت خیز حملے کی کڑی مذمت

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے سوڈان میں ہسپتال پر حملے اور ہلاکتوں کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے متحارب فریقین پر اثرورسوخ رکھنے والے ممالک سے کہا ہے کہ وہ عسکری دھڑوں کو اسلحے کی فراہمی روکنے اور جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

سیکرٹری جنرل نے اپنے ترجمان کے ذریعے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ 4 دسمبر کو کردفان میں ہسپتال پر ڈرون حملوں کی خبر سن کر انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ ان حملوں میں زخمی ہونے والے لوگوں کی مدد کو آنے والے امدادی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جو قابل مذمت اور جرم ہے۔

Tweet URL

ان کا کہنا ہے کہ متحارب فریقین ہتھیار رکھ دیں اور جامع، مشمولہ اور سوڈانی عوام کی قیادت میں سیاسی عمل کی بحالی پر اتفاق کریں۔ اقوام متحدہ ملک میں جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی جانب راہ ہموار کرنے کے لیے ہر حقیقی قدم میں مدد کے لیے تیار ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے تصدیق کی ہے کہ کردفان کے علاقے کالوجی میں ہسپتال کو کم از کم تین مرتبہ نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 114 افراد ہلاک ہوئے جن میں 63 بچے بھی شامل ہیں۔

امدادی کارکنوں اور قافلوں پر حملے

اس حملے میں بچ جانے والے افراد کو جنوبی کردفان کے ابو جبیہہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں خون کے عطیات اور دیگر طبی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ جب طبی عملہ اور امدادی کارکن زخمی بچوں کو ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو ان پر بھی حملہ کیا گیا۔

اسی روز شمالی کردفان میں ایک امدادی قافلہ بھی حملوں کا نشانہ بنا جو شمالی دارفور کے لیے امداد لے کر جا رہا تھا۔ اس واقعے میں قافلے کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ٹرک کا ڈرائیور شدید زخمی ہو گیا۔

مظالم کی نئی لہر کا خدشہ

امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ وسطی کردفان میں حالات بگڑ رہے ہیں جہاں امداد کی قلت ہے جبکہ جنوبی کردفان کے دارالحکومت کدوقلی میں قحط پھیلنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں مظالم کی ایک اور لہر کا خدشہ ہے۔ اکتوبر کے اواخر سے اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزاروں لوگ فضائی حملوں، گولہ باری اور ماورائے عدالت قتل سے بچنے کے لیے فرار ہو رہے ہیں۔

ہائی کمشنر کے دفتر نے کہا کہ ہے کہ قحط، موت اور تباہی سے بھاگنے والے افراد کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنا نہایت ضروری اور انسانی حقوق کا تقاضا ہے۔

'ڈبلیو ایف پی' کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکو نے واضح کیا ہے کہ مزید ہلاکتوں کو روکنے اور قحط پر قابو پانے کے لیے سوڈان کی جانب دنیا کی مزید توجہ درکار ہے۔ ملک میں تین کروڑ سے زیادہ لوگوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور 90 لاکھ سے زیادہ لوگ اندرون ملک بے گھر ہو چکے ہیں۔