سال 2026 میں امدادی سرگرمیوں کے لیے یو این اداروں کو درکار 33 ارب ڈالر
اقوام متحدہ اور شراکت داروں کو آئندہ سال جنگوں، موسمیاتی آفات، زلزلوں، وباؤں اور فصلوں کی تباہی سے متاثرہ آٹھ کروڑ 70 لاکھ لوگوں کو ہنگامی مدد فراہم کرنے کے لیے 23 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی رابطہ کار ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ یہ رقم آئندہ برس کے لیے 33 ارب ڈالر مالیت کے عالمی امدادی جائزے کی فوری ترجیح ہے۔ یہ جائزہ آج جاری کیا گیا جس کا مقصد 50 ممالک میں 13 کروڑ 50 لاکھ افراد تک ضروری مدد پہنچانا ہے۔
امدادی ضروریات کا یہ تخمینہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں دیے جانے والے امدادی وسائل میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں ہوئی ہیں اور امدادی کارکنوں پر ریکارڈ تعداد میں جان لیوا حملے ہو رہے ہیں۔ یہ تخمینہ 29 امدادی منصوبوں کا احاطہ کرتا ہے جن میں سب سے بڑا منصوبہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے ہے جہاں 4.1 ارب ڈالر کی ضرورت ہے تاکہ 30 لاکھ لوگوں تک مدد پہنچ سکے۔
سوڈان میں نقل مکانی کے بدترین بحران کا شکار دو کروڑ لوگوں کو ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے 2.9 ارب ڈالر درکار ہیں جبکہ بیرون ملک نقل مکانی کرنے والے 70 لاکھ سوڈانی شہریوں کے لیے مزید دو ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
علاقائی امدادی منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ شام سے متعلق ہے جس کے لیے 2.8 ارب ڈالر درکار ہیں تاکہ 86 لاکھ افراد کو مدد دی جاسکے۔
بڑھتے مسائل، ناکافی وسائل
امدادی اپیل کے اجرا پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹام فلیچر نے کہا کہ 2025 میں کی جانے والی اپیل پر صرف 12 ارب ڈالر مل سکے تھے جو ایک دہائی کے عرصہ میں موصول ہونے والی سب سے کم رقم ہے۔ نتیجتاً امدادی اداروں کو اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں دو کروڑ 50 لاکھ کم لوگوں تک رسائی حاصل ہوئی۔ اس کے فوری نتائج بھوک میں اضافے اور صحت کے نظام پر دباؤ کی صورت میں سامنے آئے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ جب سوڈان اور غزہ کے کچھ حصوں میں قحط جیسی صورتحال تھی تو اس وقت بھی خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کے پروگراموں میں کٹوتی ہوئی اور سیکڑوں امدادی تنظیمیں بند ہو گئیں۔ گزشتہ سال 380 سے زیادہ امدادی کارکن ہلاک ہوئے جو تاریخ میں ایسی سب سے بڑی تعداد ہے۔
امدادی کارکنوں کا تحفظ
ٹام فلیچر نے کہا کہ امدادی اپیلوں پر صرف 20 فیصد وسائل ہی موصول ہو پاتے ہیں۔ ایک مثال پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امدادی ادارے گویا ایمبولینس کو آگ کی جانب لے جاتے ہیں لیکن ان سے کہا جا رہا ہے کہ آگ بھی آپ ہی بجھائیں جبکہ اس مقصد کے لیے نہ تو ضروری مقدار میں پانی دستیاب ہے اور نہ ہی تحفظ میسر ہے۔
امدادی ادارے اس اپیل کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے پاس لے جائیں گے اور ان سے تعاون طلب کریں گے۔ یہ عمل آئندہ 87 روز تک جاری رہے گا۔ اس دوران رکن ممالک پر امدادی کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھی زور دیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ وہ ان واقعات پر محض تشویش کا اظہار نہ کریں بلکہ قاتلوں اور انہیں مسلح کرنے والوں کا محاسبہ بھی کریں۔