انسانی کہانیاں عالمی تناظر

انروا دفتر پر اسرائیلی چھاپہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی، لازارینی

مشرقی یروشلم میں یو این امدادی ادارے ’انروا‘ کا ہیڈکوارٹر۔
UNRWA
مشرقی یروشلم میں یو این امدادی ادارے ’انروا‘ کا ہیڈکوارٹر۔

انروا دفتر پر اسرائیلی چھاپہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی، لازارینی

امن اور سلامتی

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) نے مشرقی یروشلم میں اپنے دفتر پر اسرائیلی پولیس کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی حقوق کی پامالی قرار دیا ہے۔

ادارے کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے بتایا ہے کہ آج صبح پولیس بلدیاتی اہلکاروں کے ساتھ عمارت میں داخل ہو گئی اور اقوام متحدہ کا پرچم اتار کر اس کی جگہ اسرائیلی پرچم لہرا دیا گیا۔ اس دوران پولیس کی موٹرسائیکلیں، ٹرک اور فورک لفٹر بھی احاطے میں لائے گئے۔ پولیس نے تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے جبکہ فرنیچر، آئی ٹی کے سامان اور دیگر املاک کو ضبط کر لیا گیا۔

Tweet URL

کمشنر جنرل نے کہا ہے کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کے رکن ملک کے طور پر اسرائیل کی اس ذمہ داری کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کے تحت اس کے لیے اقوام متحدہ کے احاطوں کے تقدس اور ناقابل تجاوز حیثیت کا احترام اور تحفظ کرنا لازم ہے۔ اس واقعے سے دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے دفاتر کی حفاظت کی بابت خطرناک مثال قائم ہوئی ہے۔

'انروا' مشرق وسطیٰ میں پانچ مقامات پر فلسطینی پناہ گزینوں کو صحت، تعلیم اور دیگر خدمات فراہم کرتا ہے۔ ادارے کو غزہ میں حالیہ جنگ کے بعد اسرائیل کی جانب سے شدید تنقید اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اقوام متحدہ کا استثنیٰ و احترام

فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ مشرقی یروشلم میں اس کی یہ عمارت رواں سال کے آغاز سے خالی ہے جب اسرائیلی پارلیمنٹ نے 'انروا' کے خلاف قوانین کی منظوری دی تھی۔ اس سے قبل کئی ماہ تک ادارے اور اس کے اہلکاروں کے خلاف ہراسانی کی مہم جاری رہی۔ اس دوران 'انروا' کے دفاتر پر آتشیں حملے ہوئے، اس کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور دھمکیاں دی گئیں جبکہ وسیع پیمانے پر چلائی جانے والی غلط معلومات کی مہم نے ایسے واقعات کو ہوا دی۔

کمشنر جنرل نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے مرکز کو ہر طرح کی مداخلت اور حملوں سے تحفظ حاصل ہے۔ اسرائیل اقوام متحدہ کی مراعات اور استثنیٰ سے متعلق کنونشن کا فریق ہے جس کے تحت متعلقہ ملک میں ادارے کی املاک اور اثاثوں کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے بھی واضح کیا ہے کہ اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ 'انروا' اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کرے اور ان کا احترام یقینی بنائے۔