انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: نازک جنگ بندی اور یخ سردی میں بحالی کی کوششیں

غزہ میں موجودہ نازک جنگ بندی کے دوران امدادی کارروائیوں کی مکمل اور بلا رکاوٹ اجازت ہونی چاہیے۔
© IOM غزہ میں موجودہ نازک جنگ بندی کے دوران امدادی کارروائیوں کی مکمل اور بلا رکاوٹ اجازت ہونی چاہیے۔

غزہ: نازک جنگ بندی اور یخ سردی میں بحالی کی کوششیں

انسانی امداد

10 اکتوبر کو غزہ میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد لوگوں کو قدرے سکون میسر آیا ہے لیکن خوراک، صحت اور پناہ کے مسائل اب بھی ختم نہیں ہوئے اور انہیں یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ یہ نازک امن کسی بھی وقت غارت ہو سکتا ہے۔

دو سالہ جنگ میں غزہ کے ہزاروں خاندان چھت سے محروم رہے۔ انہیں کھلے آسمان تلے سونا پڑا جہاں ٹمٹماتے ستارے ان کے لیے امید کی علامت تھے وہیں انہیں تکتے ہوئے ان چیزوں کی دردناک یاد بھی ستاتی تھی جنہیں وہ کھو چکے تھے۔

صبح، ان کے شوہر احمد اور سات بچوں نے اپنا گھر تباہ ہونے کے بعد کئی راتیں کھلے آسمان تلے بسر کیں۔ انہوں ںے بتایا کہ جنگ چھڑی تو وہ شجاعیہ سے نقل مکانی کر کے رمال اور پھر جنوب میں رفح، دیر البلح اور النصیرت گئے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر شجاعیہ میں واپس آئے ہیں۔ متواتر نقل مکانی کے دوران وہ اپنے تمام اثاثے کھو بیٹھے۔

احمد دل کے مرض میں مبتلا ہیں اور انہیں دوا میسر نہیں ہے۔ ان کے ایک بچے کو سر پر چوٹ لگی جس سے اس کی یادداشت چلی گئی۔ ایک بچہ فضائی حملے کے دوران پانچویں منزل سے گر گیا جبکہ ایک بچی ہیپاٹائٹس سے جاں بحق ہو گئی۔ صبح بتاتی ہیں کہ وہ اس لیے چل بسی کہ ان کے پاس اسے دینے کے لیے دوا نہیں تھی۔

جنگ بندی سے پہلے زندگی روزانہ بقا کی جدوجہد بن چکی تھی اور لوگ کئی روز فاقے کرنے اور آلودہ پانی پینے پر مجبور تھے۔ ان حالات میں دواؤں تک رسائی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ احمد کا کہنا ہے کہ کسی باپ کے لیے یہ بہت بڑا دکھ ہے کہ آپ کے پاس پانی ہو مگر اسے اپنے بچوں کو نہ دے سکیں کیونکہ اسے کئی روز تک استعمال میں لانا ہو۔

صبا اور ان کے خاندان کو دو سالہ جنگ می بارہا نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔
© IOM

نقل مکانی اور عدم تحفظ

جنگ بندی کے بعد بھی غزہ کے لوگ پناہ کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں لیکن اکثر انہیں اپنے گھر ملبے کا ڈھیر ملتے ہیں۔ عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) کے شراکت داروں نے بتایا ہے کہ 10 اکتوبر کے بعد چھ لاکھ 39 ہزار افراد نے جنوب سے غزہ شہر کی جانب واپس نقل مکانی کی ہے۔ بہت سے لوگ مزید شمال کی طرف جبالیہ اور بیت حنون کا رخ بھی کر رہے ہیں۔

لوگوں کی بہت بڑی تعداد اب بھی خیمہ بستیوں یا اجتماعی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہے۔ یہ لوگ عموماً کھلے مقامات پر یا ایسی تباہ شدہ عمارتوں میں مقیم ہیں جو تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔

گزشتہ دو ماہ میں 'آئی او ایم' نے چھ لاکھ 60 ہزار سے زیادہ لوگوں کے لیے حفظانِ صحت اور پناہ کا سامان فراہم کیا ہے جس میں 11 ہزار سے زیادہ خیمے بھی شامل ہیں۔ یہ سامان صبح جیسے لوگوں کو بنیادی تحفظ اور وقار کا احساس لوٹانے میں مدد دے رہا ہے جو طویل عرصہ سے غیر یقینی حالات میں جی رہے ہیں۔

ادارے کے گودام امدادی سامان سے بھرے ہیں، ٹرک تیار کھڑے ہیں جنہیں راستے کھلنے پر کسی بھی وقت ضرورت مند لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے آئی ایم او کے کارکن غزہ کے بے گھر خاندانوں کے لیے خیموں اور بستروں کا انتظام کر رہے ہیں۔
© BLDA

سرما کی امدادی ضروریات

'آئی او ایم' کے شراکت دار اور بیت لاہیہ ترقیاتی انجمن کے پروگرام مینیجر محمد نجار کا کہنا ہے کہ موسم سرما قریب آتے ہی حالات کی سنگینی بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ بے شمار خاندانوں کے پاس پناہ کا مناسب سامان موجود نہیں ہے۔ لوگوں کو فوری طور پر خیموں، کمبلوں اور گرم کپڑوں کی ضرورت ہے جبکہ پناہ اور حرارت کے بغیر ان کی تکالیف بڑھ جائیں گی۔

گزشتہ سرما میں نوزائیدہ بچوں سمیت درجن سے زیادہ لوگ سردی لگنے سے جاں بحق ہو گئے تھے۔ امسال اگر بروقت مدد مل جائے تو ایسی اموات روکی جاسکتی ہیں۔

محمد نجار کہتے ہیں کہ فلسطینی امدادی کارکنوں نے بین الاقوامی برادری کے تعاون سے بحالی کا طویل سفر پہلے ہی شروع کر دیا ہے لیکن یہ سفر امن اور اجتماعی عزم کا تقاضا کرتا ہے تاکہ غزہ میں شہریوں کی سلامتی اور وقار کو یقینی بنایا جا سکے۔