انسانی کہانیاں عالمی تناظر

واشنگٹن میں طے پانے والے کانگو روانڈا امن معاہدے کا خیرمقدم

کانگو اور روانڈا کے درمیان واقع سرحدی علاقے کی ایک کسان خاتون۔
© WFP/Arete/Fredrik Lerneryd کانگو اور روانڈا کے درمیان واقع سرحدی علاقے کی ایک کسان خاتون۔

واشنگٹن میں طے پانے والے کانگو روانڈا امن معاہدے کا خیرمقدم

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ نے جمہوریہ کانگو اور روانڈا کے درمیان طے پانے والے نئے امن معاہدے کو تشدد کے خاتمے اور اعتماد کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سرحدی علاقوں کے قریب جاری جھڑپوں میں اب بھی شہریوں کا بھاری نقصان ہو رہا ہے۔

امریکہ کی وساطت سے طے پانے والے 'واشنگٹن معاہدہ برائے امن و خوشحالی' پر دونوں ممالک کی جانب سے دستخط کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کانگو کے صدر فیلکس ٹیسیکڈی اور روانڈا کے صدر پال کاگامے کو مبارک باد دی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مشرقی کانگو میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو آگے بڑھانے کی جانب نہایت اہم قدم ہے۔

سیکرٹری جنرل نے قطر اور افریقن یونین کے زیر قیادت امن عمل میں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2773 (2025) کے تحت مستقل جنگ بندی سمیت اپنے تمام وعدوں کی پاسداری کریں۔

اقوام متحدہ کا تعاون

سیکرٹری جنرل نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور جمہوریہ کانگو میں اس کا امن مشن مونوسکو پائیدار امن اور علاقائی استحکام کے لیے جاری کوششوں میں تعاون کرتے رہیں گے۔

معدنی وسائل سے مالا مال مشرقی کانگو میں مسلح گروہوں کی لڑائی اور تشدد سے پیدا ہونے والے عدم استحکام کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات طویل عرصہ تک کشیدہ رہے ہیں۔

رواں سال کے آغاز پر روانڈا کی پشت پناہی میں ایم 23 باغیوں نے مشرقی کانگو میں نئی کارروائیاں شروع کیں اور کئی بڑے شہروں پر قبضہ کرلیا جس سے نقل مکانی اور علاقائی تناؤ میں اضافہ ہوا۔

مشرقی کانگو میں تشدد

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے کہا ہے کہ منگل سے اب تک مشرقی علاقوں اویرا، والونگو، کابارے، فیزی اور کالیہے میں شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ ان حملوں میں اہم تنصیبات اور گھروں کو نقصان پہنچا۔

ترجمان نے تمام متحارب فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ انسانی امداد کی فراہمی کے لیے رسائی دی جانا ضروری ہے تاکہ ضروری امداد لوگوں تک پہنچ سکے۔