انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی حملوں سے انسانی بحران سنگین، اوچا

مغربی کنارے کے علاقے ہیبرون میں ایک فلسطینی خاندان اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کے بعد اپنے تباہ حال گھر کو دیکھ رہے ہیں۔
© UNICEF/Rawan Eleyan
مغربی کنارے کے علاقے ہیبرون میں ایک فلسطینی خاندان اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کے بعد اپنے تباہ حال گھر کو دیکھ رہے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی حملوں سے انسانی بحران سنگین، اوچا

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافے سے بڑی تعداد میں فلسطینی بے گھر ہونے لگے ہیں جبکہ سکول بند ہونے اور خدمات کی معطلی سے بچوں سمیت ہزاروں لوگوں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

25 نومبر سے یکم دسمبر کے درمیان اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک بچے سمیت چار فلسطینی ہلاک ہوئے جس کے بعد امسال مغربی کنارے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 227 ہو گئی ہے۔ رواں سال تقریباً نصف ہلاکتیں جنین اور نابلوس میں ریکارڈ کی گئیں۔ ان دونوں علاقوں میں ہی بڑے پیمانے پر بیدخلی کی کارروائیوں میں گزشتہ ہفتے 95,000 سے زیادہ فلسطینی متاثر ہوئے۔

Tweet URL

طوباس میں چھاپوں، کرفیو اور عمارتیں منہدم کرنے کی کارروائیوں کے نتیجے میں گھروں، سڑکوں اور پانی کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا جس سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے اور تقریباً 17,000 افراد کے لیے پانی کی فراہمی منقطع ہوئی۔

رواں سال 'اوچا' نے 270 علاقوں میں آبادکاروں کے 1,680 حملے ریکارڈ کیے جبکہ زیتون کی فصل کے موسم میں کسانوں، درختوں اور زرعی ڈھانچے پر حملے تیز ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہی ہیں۔

سیلاب، عدم تحفظ اور نقل مکانی

غزہ میں نصف علاقے کو قطع کرنے والی اس زرد لکیر کے قریب فضائی حملے، گولہ باری اور روزانہ کی بنیاد پر عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کے واقعات جاری ہیں جس کے دوسری جانب اسرائیلی فوج کی موجودگی برقرار ہے۔

گزشتہ ہفتے اس لکیر میں ردوبدل کے باعث غزہ شہر کے مشرقی علاقوں سے نئی نقل مکانی ہوئی جبکہ موسم سرما کی بارشوں نے پہلے سے ابتر حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔

اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد 774,000 سے زیادہ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی 20,500 سے زیادہ لوگوں نے سیلاب اور عدم تحفظ کے باعث اپنے ٹھکانے تبدیل کیے۔ امدادی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما، گنجان پناہ گاہوں اور متواتر نقل مکانی کے باعث بچوں، معمر و معذور افراد اور ایسے خاندانوں کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے جن کا کوئی مرد سرپرست موجود نہیں رہا۔

صحت کا بحران

غزہ کا نظام صحت بھی تباہی کے دہانے پر ہے۔ اگرچہ جنگ بندی کے بعد 42 طبی مراکز نے دوبارہ یا جزوی طور پر کام شروع کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود 61 فیصد طبی سہولتیں غیر فعال ہیں جس سے باقی ماندہ نظام پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، چار ہزار بچوں سمیت 16,500 سے زیادہ مریض طبی بنیاد پر غزہ سے انخلا کے منتظر ہیں۔

غذائی عدم تحفظ اور غذائیت کی کمی کے تناظر میں بھی غزہ کے حالات تشویشناک ہیں۔ یونیسف کے مطابق، اکتوبر میں پانچ سال سے کم عمر کے دو تہائی بچوں نے صرف دو یا اس سے کم اقسام کی غذا استعمال کی تھی۔ اس طرح علاقے کی تمام کم عمر آبادی شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔

امدادی وسائل کی قلت

اگرچہ گزشتہ ہفتوں کے دوران غذائی امداد میں قدرے اضافہ ہوا ہے لیکن ایندھن، کھانا پکانے کی گیس اور نقد رقم کی کمی متنوع خوراک تک رسائی کو محدود کر رہی ہے۔

غزہ میں 80 فیصد سے زیادہ عمارتیں تباہ یا شدید نقصان سے دوچار ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، رسائی اور مالی وسائل کی متواتر فراہمی کی صورت میں ملبہ صاف کرنے میں کم از کم سات سال لگیں گے۔

بڑے پیمانے پر ضروریات کے باوجود غزہ میں انسانی امداد کے لیے مالی وسائل خطرناک حد تک کم ہیں۔ رواں سال علاقے میں چار ارب ڈالر کے امدادی وسائل کی ضرورت ہے جبکہ 4 دسمبر تک اس میں سے 40 فیصد ہی مہیا ہو سکے تھے۔