انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: کردفان کو ’ایک اور الفاشر‘ نہیں بننا چاہیے، وولکر ترک

کردفان کے علاقے کادوقلی میں ایک لڑکی اپنی جان بچانے کے لیے علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہے۔
© UNICEF/Adriana Zehbrauskas
کردفان کے علاقے کادوقلی میں ایک لڑکی اپنی جان بچانے کے لیے علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہے۔

سوڈان: کردفان کو ’ایک اور الفاشر‘ نہیں بننا چاہیے، وولکر ترک

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کے علاقے کردفان میں جاری لڑائی کے نتیجے میں الفاشر جیسے حالات پیش آنے اور مظالم کی نئی لہر جنم لینے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

ہائی کمشنر نے متحارب فریقین پر اثرورسوخ رکھنے والے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لڑائی روکنے اور عسکری دھڑوں کو اسلحہ کی ترسیل بند کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کردفان کو ایک اور الفاشر بننے نہیں دیا جا سکتا۔

Tweet URL

سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کے مخالف دھڑے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین اپریل 2023 سے ملک بھر میں خونریز لڑائی جاری ہے۔ گزشتہ ماہ 'آر ایس ایف' نے ایک سالہ طویل محاصرے کے بعد شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر پر قبضہ کر لیا تھا اور اس دوران بڑے پیمانے پر قتل و غارت، جنسی تشدد، اذیت رسانی اور دیگر سنگین مظالم کی اطلاعات سامنے آئیں۔

فضائی حملوں میں بڑھتی ہلاکتیں

'آر ایس ایف' نے 25 اکتوبر کو شمالی کردفان کے شہر بارا پر بھی قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے علاقے پر فضائی حملوں، توپ خانے کی گولہ باری اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں کم از کم 269 شہریوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

کردفان میں انتقامی قتل، ناجائز گرفتاریوں، اغوا، جنسی تشدد اور جنگ کے لیے بچوں کی جبری بھرتیوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ وولکر ترک کے مطابق، بہت سے شہریوں کو مخالف فریق سے تعاون کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ تشدد کی اس لہر کے باعث 45,000 سے زیادہ لوگ کردفان کے اندر یا اس سے باہر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ 3 نومبر کو شمالی کردفان کے شہر الابیض میں 'آر ایس ایف' کے مبینہ ڈرون حملے میں 45 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 29 نومبر کو جنوبی کردفان کے شہر کاودا میں 'ایس اے ایف' کے فضائی حملے میں کم از کم 48 افراد مارے گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

تشدد، محاصرے اور قحط

سوڈان میں امدادی گروہوں نے ایک مشترکہ بیان میں تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر اور محاصروں کی شدید مذمت کی ہے جن کے باعث متعدد شہروں کا دیگر علاقوں سے رابطہ کٹ گیا ہے۔ تشدد کے باعث خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات تک رسائی محدود ہو گئی ہے اور کسانوں کی کھیتوں اور منڈیوں تک رسائی منقطع ہو چکی ہے۔

امدادی تنظیموں نے بتایا ہے کہ جنوبی کردفان کے علاقے کادوقلی میں قحط جیسی صورتحال کی نشاندہی ہو چکی ہے جبکہ حالیہ دنوں مغربی کردفان کے علاقے بابانوسہ میں بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

وولکر ترک نے کہا ہے کہ ایک اور انسان ساختہ تباہی کے سامنے خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ یہ جنگ اب فوراً بند ہونی چاہیے۔ سوڈان کو اس وقت دنیا کا بدترین انسانی بحران درپیش ہے جہاں تقریباً 3 کروڑ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔ انتہائی خطرات کے باوجود امدادی کارکن اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور صرف کردفان خطے میں ہی 11 لاکھ افراد کو مدد پہنچائی جا چکی ہے۔