انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سال 2024 عرب خطے کا تاریخ میں گرم ترین سال، ڈبلیو ایم او

عرب علاقوں میں گزشتہ سال کا اوسط درجہ حرارت 1991 سے 2020 کے عرصہ کی اوسط کے مقابلے میں 1.08 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔
© Unsplash عرب علاقوں میں گزشتہ سال کا اوسط درجہ حرارت 1991 سے 2020 کے عرصہ کی اوسط کے مقابلے میں 1.08 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔

سال 2024 عرب خطے کا تاریخ میں گرم ترین سال، ڈبلیو ایم او

موسم اور ماحول

2024 عرب خطے کے لیے تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہوا جہاں گزشتہ دہائیوں میں حدت، شدید گرمی کی لہروں اور خشک سالی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی عرب خطے میں موسمیاتی صورتحال پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں گزشتہ سال کا اوسط درجہ حرارت 1991 سے 2020 کے عرصہ کی اوسط کے مقابلے میں 1.08 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔ شمالی افریقہ اور مشرق قریب میں شدید گرمی کی لہروں کا دورانیہ بھی بڑھتا جا رہا ہے اور 1981 سے اس میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2024 میں کئی ممالک میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا تھا۔

Tweet URL

رپورٹ میں یہ پیش گوئی بھی کی گئی ہے کہ مستقبل میں خطے کے درجہ حرارت میں 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ متوقع ہے۔ تاہم، انسانی صحت، ماحولیاتی نظام اور معیشتیں 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کے طویل دورانیے برداشت نہیں کر سکتیں۔

'ڈبلیو ایم او' کی سیکرٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ عرب خطے میں بڑھتی حدت ایک طویل مدتی رجحان کا تسلسل ہے۔ اس خطے کا درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ تیز رفتار سے بڑھ رہا ہے اور اس کے ساتھ گرمی کی شدید لہریں بھی آ رہی ہیں جو آبادی پر بھاری دباؤ ڈالتی ہیں۔

خشک سالی، بارشیں اور سیلاب

'ڈبلیو ایم او' نے یہ رپورٹ مغربی ایشیا کے لیے اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن (ایسکوا) اور عرب لیگ کی شراکت میں تیار کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ 2024 کے شدید موسمی واقعات نے خطے میں تقریباً 38 لاکھ لوگوں کو متاثر کیا اور 300 سے زیادہ اموات ہوئیں جن میں زیادہ تر شدید گرمی کی لہروں اور سیلاب کا نتیجہ تھیں۔

رپورٹ کے مطابق، 2024 میں خشک سالی نے مغربی افریقہ کو بری طرح متاثر کیا جہاں مسلسل چھ برس بہت کم بارشیں ہوئیں جبکہ مراکش، الجزائر اور تیونس بھی اس موسمی کیفیت سے شدید متاثر ہوئے۔ اس سے برعکس، سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات جیسے خشک ملکوں میں طوفانی بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب سے جانی و مالی نقصان ہوا۔

آبی تحفظ کی ضرورت

موسمیاتی خطرات تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، تنازعات، غربت اور آبادی میں اضافے جیسے سماجی و اقتصادی مسائل کے ساتھ مل کر ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے موسمیاتی اثرات کے سامنے مضبوطی پیدا کرنے، خطرات میں کمی لانے اور آبی تحفظ یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

'ایسکوا' کی ایگزیکٹو سیکرٹری رولا دشتی نے کہا ہے کہ اگر رواں صدی کے اختتام تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی سطح بلند رہی تو خطے کے اوسط درجہ حرارت میں 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ممکن ہے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی سمندری سطح ساحلی شہروں کے لیے خطرہ ہے جبکہ بارشوں میں کمی پانی کی قلت کو مزید بڑھا دے گی اور غذائی پیداوار کو خطرات سے دوچار کر دے گی۔