انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ملیریا: ادویات کے خلاف جراثیمی مزاحمت سے صحت و زندگی کو خطرہ

گزشتہ 25 سال میں ملیریا کے خلاف اقدامات کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ جانیں بچائی گئیں۔
© WHO/Atul Loke/Panos Pictures
گزشتہ 25 سال میں ملیریا کے خلاف اقدامات کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ جانیں بچائی گئیں۔

ملیریا: ادویات کے خلاف جراثیمی مزاحمت سے صحت و زندگی کو خطرہ

صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ملیریا کی دواؤں کے خلاف جراثیمی مزاحمت افریقہ سمیت دنیا کے کئی حصوں میں صحت و زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔

دنیا میں ملیریا کی صورتحال پر 'ڈبلیو ایچ او' کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مچھر کے ذریعے پھیلنے والی یہ بیماری قابل انسداد اور قابل علاج ہونے کے باوجود صحت عامہ کا بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے جو ہر سال لاکھوں جانیں لے لیتی ہے۔ عام طور پر بچے اور حاملہ خواتین اس بیماری کا نشانہ بنتے ہیں اور ان میں بیشتر کا تعلق ذیلی صحارا افریقہ سے ہوتا ہے۔

Tweet URL

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 25 سال میں ملیریا کے خلاف اقدامات کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ جانیں بچائی گئیں، اور 47 ممالک کو ملیریا سے پاک قرار دیا جا چکا ہے۔ تاہم، اس بیماری پر پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا۔ 2024 میں ملیریا کے 28 کروڑ سے زیادہ کیس سامنے آئے اور اس مرض سے چھ لاکھ اموات ہوئیں۔ ان میں 95 فیصد مریضوں کا تعلق افریقہ کے 11 ممالک سے تھا۔

جراثیمی مزاحمت میں اضافہ

ادویات کے خلاف جراثیموں کی مزاحمت اس مرض کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ آٹھ ممالک نے ملیریا کی ادویات کے خلاف مزاحمت کی تصدیق کی ہے یا ایسا شبہ ظاہر کیا ہے جن میں 'ڈبلیو ایچ او' کی تجویز کردہ آرٹیمیسنن دوا بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ کسی ایک دوا پر زیادہ انحصار کرنے سے گریز کیا جائے اور بیماری کی بہتر نگرانی اور ضابطہ صحت کے نظام کو فروغ دیا جائے۔

ملیریا کے بے قابو پھیلاؤ کا خدشہ

وسائل کی کمی بھی ملیریا پر قابو پانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ افریقہ میں جاری جنگوں، موسمیاتی عدم مساوات اور کمزور نظام ہائے صحت کے سبب حالات پہلے ہی مشکل ہیں۔ 2024 میں ملیریا کے خلاف اقدامات میں 3.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جو کہ 'ڈبلیو ایچ او' کے مقرر کردہ ہدف کے نصف سے بھی کم ہے۔ امیر ممالک کی جانب سے ترقیاتی امداد میں کمی کے سبب بھی انسداد ملیریا اقدامات کمزور ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر جراثیمی مزاحمت سے نمٹنے اور بیماری کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مہیا نہ ہوئے تو اس کا پھیلاؤ بے قابو ہو سکتا ہے۔

نئی ادویات کی ضرورت

میڈیسن فار ملیریا وینچر نامی غیرمنفعی ادارے کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر مارٹن فچیٹ نے 'ڈبلیو ایچ او' کی اس رپورٹ کے اجرا پر ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو ملیریا قابل انسداد اور قابل علاج مرض نہیں رہے گا۔ نئی ادویات کی اختراع پر جرات مندانہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ ملیریا کے جرثومے پر قابو رکھا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس بیماری کے خلاف طویل مدتی کامیابی اور ملیریا کے خلاف حتمی فتح انسداد ملیریا کی نئی ادویات میں ترقی پر منحصر ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے صنعتوں، عالمی طبی اداروں، یونیورسٹیوں، معالجین، محققین، سول سوسائٹی، عام لوگوں اور امداد فراہم کرنے والوں کو یکجا ہو کر کام کرنا ہو گا۔