انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنرل اسمبلی: روس سے یوکرینی بچے واپس کرنے کا مطالبہ

اسمبلی کے ہنگامی خصوصی اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 91 اور مخالفت میں 12 ووٹ آئے جبکہ 57 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
UN Photo/Manuel Elías
اسمبلی کے ہنگامی خصوصی اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 91 اور مخالفت میں 12 ووٹ آئے جبکہ 57 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

جنرل اسمبلی: روس سے یوکرینی بچے واپس کرنے کا مطالبہ

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین سے جبراً روس میں منتقل کیے گئے بچوں کی فوری، محفوظ اور غیرمشروط واپسی کے مطالبے پر مبنی قرارداد دو تہائی اکثریت سے مںظور کر لی ہے۔

اسمبلی کے ہنگامی خصوصی اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 91 اور مخالفت میں 12 ووٹ آئے جبکہ 57 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد میں یوکرین سے تعلق رکھنے والے ان بچوں کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جو 2014 کے بعد اپنے خاندانوں سے جدا ہیں جب روس نے کرائمیا کا اپنے ساتھ الحاق کیا تھا۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جنہیں مقبوضہ یوکرینی علاقوں کے اندر منتقل کیا گیا یا روس لے جایا گیا۔

Tweet URL

قرارداد میں ان اقدامات کو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے جس کے تحت مقبوضہ علاقوں سے لوگوں کی جبری منتقلی یا بے دخلی ممنوع ہے۔

قرارداد میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ جنرل اسمبلی اپنے ہنگامی خصوصی اجلاس کو عارضی طور پر ملتوی کرے گی اور ارکان کی درخواست پر اسے دوبارہ طلب کیا جا سکے گا۔

قرارداد کے اہم نکات

قرارداد میں روس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے تمام یوکرینی بچوں کی فوری، محفوظ اور غیر مشروط واپسی یقینی بنائے اور مزید بچوں کی ان کے علاقوں سے بے دخلی، خاندانوں سے جبری علیحدگی، شہریت کی تبدیلی، انہیں گود لینے یا رضاعی خاندانوں میں رکھنے اور ان کی نظریاتی ذہن سازی جیسے تمام اقدامات بند کرے۔

قرارداد میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسلح تنازعات میں بچوں کی صورتحال سے متعلق اپنے خصوصی نمائندہ کے ذریعے ایسے بچوں کا سراغ لگائیں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے ان تک رسائی یقینی بنانے کے اقدامات اٹھائیں۔

قرارداد میں ایسے بین الاقوامی اقدامات کی حمایت بھی کی گئی ہے جن کا مقصد یوکرینی بچوں کی فوری واپسی، بحالی اور انہیں صحت کی سہولیات، نفسیاتی معاونت اور تعلیم تک رسائی دینا ہے۔

بین الاقوامی قانون کی پامالی

اجلاس کے آغاز میں جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے ان یوکرینی بچوں کے حالات بیان کیے جنہیں ان کے گھروں سے اٹھا لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ذرا سوچیے آپ 16 سال کے ہیں، اپنا معمول کا دن گزار رہے ہیں اور اچانک ہتھیاروں سے لیس نقاب پوش فوجی آپ کے گھر میں گھس آتے ہیں اور آپ کو گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم سمت میں لے جاتے ہیں جہاں آپ نئے نام کے ساتھ مہینوں تک ایک ڈراؤنے خواب میں پھنسے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بین الاقوامی قانون بالکل واضح ہے۔ یہ صرف چند بچوں کا سانحہ نہیں بلکہ جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 کی رو سے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انسانیت کا سوال

یہ قرارداد پیش کرتے ہوئے یوکرین کی نائب وزیرخارجہ ماریانا بیتسا نے کہا کہ یہ انسانیت کا معاملہ ہے۔ روس کی جارحیت کے دوران بچوں کو قتل اور زخمی کیا گیا، زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، انہیں اپنے خاندانوں سے جدا کیا گیا اور جبراً روس لے جایا گیا۔ اب تک کم از کم 20,000 یوکرینی بچوں کو روس لے جایا جا چکا ہے۔

روس نے اس قرارداد کو سیاسی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ اقوام متحدہ میں ملک کی نائب مستقل نمائندہ ماریا زابولوتسکایا نے کہا کہ یہ اجلاس امن کی کوششوں کے خلاف ہے اور قرارداد ایک مذموم جھوٹ ہے۔

انہوں نے اصرار کیا کہ ان کا ملک بچوں سے متعلق معاملات پر تعاون کے لیے تیار ہے اور تمام ممالک سے قرارداد کی مخالفت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے حق میں ہر ووٹ جھوٹ، جنگ اور تصادم کی حمایت کے مترادف ہو گا۔