ڈیسا چیف کو معذور افراد کے حقوق قومی پالیسیوں کا حصہ بننے کا انتظار
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ترقی کا پہیہ آگے بڑھانے میں جسمانی معذور افراد کا اہم کردار ہے جن کی قیادت میں آفات سے نمٹنے کی تیاری میں بہتری آئی ہے، جامع تعلیم و روزگار کو فروغ ملا ہے اور سنگین خطرات سے دوچار لوگ ضروری مدد حاصل کر رہے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے یہ بات جسمانی معذور افراد کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہی ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے زیراہتمام ہونے والی تقریب میں معذور افراد کے لیے مواقع اور شمولیت بڑھانے کے موضوعات موضوع بحث رہے۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے معاشی و سماجی امور (ڈیسا) کے سربراہ لی جنہوا نے تقریب کے لیے اپنے پیغام میں یاد دلایا کہ گزشتہ ماہ دوحہ میں منعقد ہونے والی سماجی ترقی کی دوسری عالمی کانفرنس میں عالمی برادری نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ حقیقی سماجی ترقی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب سب کو برابر موقع میسر ہوں۔
اس کے باوجود جسمانی معذور افراد کو معاشرے میں شمولیت کے عمل میں رکاوٹوں کا سامنا ہے جن میں کثیرالجہتی غربت کی بلند شرح بھی شامل ہے۔ جسمانی معذور افراد کے بیروزگار ہونے کا امکان دیگر کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہوتا ہے اور تیزی سے ڈیجیٹل ہوتے عالمی ماحول میں بھی انہیں یکساں مواقع حاصل نہیں ہیں۔
لی جنہوا نے کہا کہ یہ صرف اعدادوشمار نہیں بلکہ بنیادی ناکامیاں ہیں جو انسانوں کی اجتماعی صلاحیت کو کمزور کرتی ہیں۔
منصفانہ دنیا کے لیے لازمی شرط
اس موقع پر گونگے بہرے افراد کی بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیم (ڈی ایل ٹی ایف) کے عہدیدار شان مائیوالڈ نے اشاروں کی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی فیصلہ سازی میں گونگے بہرے نوجوانوں کی شمولیت محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک منصفانہ اور جامع دنیا کے لیے لازمی شرط بھی ہے۔
'ڈی ایل ٹی ایف' گیلیڈیٹ یونیورسٹی اور اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے زیراہتمام بہرے اور گونگے نوجوانوں کو انسانی حقوق، جسمانی معذور افراد کے حقوق، سفارت کاری اور اس حوالے سے عالمی سطح پر وکالت کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔
اس پروگرام سے وابستہ یانا ہاجی ہرسٹووا نے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے اداروں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں سے متعلق ہر عالمی فریم ورک میں اشاروں کی زبان کے حقوق کو شامل کریں، اشاروں کی زبان سے متعلق مساوات کی عالمی حکمت عملی اپنائیں اور فیصلہ سازی میں بہرے نوجوانوں کے کردار کو وسیع کریں۔ جب اقوام متحدہ اشاروں کی زبان میں مساوات کو فروغ دیتا ہے تو انسانی حقوق کا پورا نظام مضبوط ہو جاتا ہے۔
عزم سے عمل تک
لی جنہوا کا کہنا تھا کہ دوحہ میں رکن ممالک نے ایک اعلامیہ منظور کیا جس میں جسمانی معذور افراد کی مکمل شمولیت اور شرکت کے لیے واضح لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے۔ اس میں سماجی پالیسیوں اور انضمام کے پروگراموں سے لے کر صحت، رہائش، تعلیم، سماجی تحفظ اور روزگار کے یکساں اور قابل رسائی مواقع کی فراہمی یقینی بنانے تک مختلف اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 'ڈیسا' اس حوالے سے رکن ممالک کی مدد کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ یہ وعدے قومی پالیسیوں میں تبدیل ہو سکیں۔ آگے بڑھتے ہوئے یاد رکھنا ہو گا کہ وہ معاشرے جو معذور افراد کے لیے بہتر طور پر کام کرتے ہیں وہی سب کے لیے زیادہ مضبوط، منصفانہ اور خوشحال ہوتے ہیں۔