شام: انسانی حقوق پر خدشات کے باوجود بہتری کی امید برقرار
شام کے لوگ اپنے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انسانی حقوق کا عالمی دن کھلے عام منانے کی تیاری کر رہے ہیں جسے اقوام متحدہ نے ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) میں مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ کے سربراہ محمد النصور نے یو این نیوز کو بتایا ہے کہ یہ دن ایسے وقت آ رہا ہے جب سابق حکومت کے خاتمے کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔ اقوام متحدہ کو برس ہا برس تک شام میں انسانی حقوق کے کام سے روکا گیا جبکہ اب دارالحکومت دمشق میں 'او ایچ سی ایچ آر' کا مستقل عملہ تعینات ہے جسے بڑی پیش رفت کہنا بے جا نہ ہو گا۔
شام کو ملکی تعمیر نو اور ماضی و حال میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر انصاف کے حصول سمیت کئی طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ رواں سال ملک کے مختلف علاقوں میں بدترین تشدد کے واقعات اور عدم تحفظ کی صورتحال اب بھی ایک تشویش ناک مسئلہ ہے۔ تاہم مجموعی رجحان کو تعمیری اور مثبت قرار دیا جا سکتا ہے۔
محمد النصور نے کہا ہے کہ حکومت میں حالات کو بہتر بنانے کی سیاسی خواہش موجود ہے جو قانون سازی میں اصلاحات، قانون نافذ کرنے والے اداروں میں انسانی حقوق کو مضبوط بنانے اور سرکاری نظام کار میں بہتری لانے کے لیے اقوام متحدہ کے ماہرین سے تکنیکی معاونت حاصل کر رہی ہے۔
انسانی حقوق کا فروغ
شام میں 10 دسمبر کو پہلی مرتبہ یوم انسانی حقوق کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ تقریب 'او ایچ سی ایچ آر' اور شامی وزارت خارجہ کی شراکت سے ہو رہی ہے جس کا موضوع 'نئے شام میں انسانی حقوق کے ایجنڈے کا فروغ' ہو گا۔
بہت سے شامیوں کے لیے سابقہ اور حالیہ دور میں ہونے والے مظالم پر جوابدہی اب بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ گزشتہ مارچ میں ساحلی علاقوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد حکام نے ایک قومی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جسے ادارے نے بھرپور تکنیکی معاونت فراہم کی اور اب بعض ملزموں کو قومی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
محمد النصور نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے اقوام متحدہ کے کمیشن آف انکوائری کی ذمہ داریوں کی تجدید کر دی ہے جس سے نہ صرف سابقہ حکومت کے دور میں حقوق کی خلاف ورزیوں بلکہ اس کے خاتمے کے بعد ہونے والی پامالیوں کی بھی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات جاری رہ سکیں گی۔
ثابت قدمی، بہتری اور امید
'او ایچ سی ایچ آر' خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی سول سوسائٹی کی تنظیموں کی معاونت بھی کر رہا ہے اور سیاسی اداروں میں عورتوں کی بہتر نمائندگی کے لیے کوشاں ہے۔ ان تنظیموں کو اپنے مقصد کی وکالت کے موثر طریقے سکھائے جا رہے ہیں اور انہیں انسانی حقوق کے عالمی نظام سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی آواز بلند کر سکیں۔
محمد النصور کا کہنا ہے کہ شام کی سب سے حیرت انگیز بات اس کے عوام کی بے مثال ثابت قدمی ہے۔ ملک بھر میں نوجوان صفائی مہمات، عوامی مقامات کی بحالی اور مقامی خدمات کی معاونت جیسی سرگرمیوں کا آغاز کر رہے ہیں۔ یہ چھوٹے مگر اہم اقدامات ہیں جو جنگ کے بعد تباہ شدہ سماجی ڈھانچے کو دوبارہ جوڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ بہت سی رکاوٹوں کے باوجود شامی عوام اپنے ملک کی تعمیر نو کے لیے پرعزم ہیں اور یہ عزم انسانی حقوق کی بنیاد پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال جب شام کے لوگ انسانی حقوق کا عالمی دن منائیں گے تو شاید اس کا سب سے بڑا پیغام یہ ہو گا کہ بہتری چاہے کتنی ہی نازک کیوں نہ ہو آخرکار دکھائی دینے لگی ہے اور اس کے ساتھ امید بھی بڑھ رہی ہے۔