انسانی کہانیاں عالمی تناظر

میانمار افیون کی پیداوار کا عالمی مرکز بن چکا، یو این او ڈی سی

میانمار میں پوست کی پیداوار کے اعدادوشمار اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
© UNODC
میانمار میں پوست کی پیداوار کے اعدادوشمار اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

میانمار افیون کی پیداوار کا عالمی مرکز بن چکا، یو این او ڈی سی

جرائم کی روک تھام اور قانون

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے کہا ہے کہ میانمار دنیا میں غیرقانونی افیون کا سب سے بڑا معلوم ذریعہ بن گیا ہے جہاں اس کی پیداوار دس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

میانمار میں رواں سال افیون کی کاشت، پیداوار اور اس کے مضمرات کے بارے میں ادارے کی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں گزشتہ سال کے مقابلے میں پوست کی کاشت میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 45,200 ہیکٹر سے بڑھ کر 53,100 ہیکٹر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ اس غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جس کا ملک کو برسوں کے تنازع اور سماجی و معاشی عدم استحکام کے بعد سامنا ہے۔

Tweet URL

افغانستان میں افیون کی کاشت میں مسلسل کمی کے بعد اب میانمار دنیا میں غیرقانونی افیون پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا اور الکاہل کے لیے ادارے کی نمائندہ ڈلفین شانز نے کہا ہے کہ میانمار ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ افیون کی کاشت میں وسیع اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ برسوں میں افیون کی معیشت کس حد تک دوبارہ پنپ چکی ہے اور آئندہ برسوں میں اس کے مزید پھیلنے کا امکان ہے۔

افیون کی قیمت میں اضافہ

رپورٹ کے نتائج 2020 کے بعد میانمار میں پوست کی کاشت میں مسلسل اضافے کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ اس سے قبل کئی برس تک اس میں کمی دیکھی گئی تھی۔ اس رجحان کی ایک بڑی وجہ افیون کی قیمت ہے، جو معاشی بدحالی اور بگڑتے حالات کے دوران پچھلے چند برسوں میں دوگنا بڑھ گئی ہے۔

2019 میں فی کلو تیار افیون کی قیمت 160 ڈالر تھی جو رواں سال 365 ڈالر پر جا پہنچی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ، افغانستان سے ہیروئن کی فراہمی میں کمی کے باعث اگر جنوب مشرقی ایشیا میں پیدا ہونے والی افیون کی عالمی طلب میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی۔

اگرچہ میانمار میں گزشتہ سال سے اب تک افیون کے زیر کاشت رقبے میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کی فی ہیکٹر پیداوار نہیں بڑھی جو مسلح تنازعات اور غیر قانونی فصلوں کی کاشت کے پیچیدہ تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ معاشی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کسانوں کو نقد آور فصل کے طور پر پوست کی طرف مائل کرتی ہے مگر بڑھتے ہوئے تنازعات اور عدم تحفظ انہیں کھیتوں کی مناسب دیکھ بھال اور زرعی ضروریات تک رسائی سے محروم کر دیتے ہیں، جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

متبادل ذرائع معاش کی ضرورت

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میانمار سے وہ منڈیاں بھی ہیروئن وصول کر رہی ہیں جو پہلے افغانستان میں اگنے والی افیون پر انحصار کرتی تھیں۔ اس کا اندازہ یوں ہوتا ہے کہ گزشتہ سال جنوب مشرقی ایشیا سے یورپ جانے والے مسافروں سے ہیروئن کی ضبطی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔

ڈلفین شانز نے کہا ہے کہ میانمار میں بڑھتے تنازع، بقا کی جدوجہد اور بھاری قیمتوں کے لالچ کے باعث کسان پوست کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ برس اس کی پیداوار میں جو اضافہ سامنے آیا ہے وہ میانمار کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈالے گا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک کسانوں کو قابل عمل متبادل ذرائع معاش فراہم نہیں کیے جاتے غربت اور غیر قانونی کاشت کا یہ سلسلہ وسیع اور طویل ہوتا جائے گا۔