انسانی کہانیاں عالمی تناظر

فلسطینی حقوق اور دو ریاستی حل کے لیے فیصلہ کن اقدامات ضروری، بیئربوک

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک (فائل فوٹو)۔
UN News اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک (فائل فوٹو)۔

فلسطینی حقوق اور دو ریاستی حل کے لیے فیصلہ کن اقدامات ضروری، بیئربوک

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور اسرائیل کے ساتھ دو ریاستی حل کے لیے مزید عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

فلسطینی مسئلے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ذمہ داری کی تصدیق سے متعلق جنرل اسمبلی کے عمومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ 78 برس سے فلسطینی عوام کو ان کے ناقابل تنسیخ حقوق خصوصاً حق خود ارادیت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دہائیوں پر محیط اس تعطل کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدام کیا جائے۔

Tweet URL

انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے کیے گئے مظالم نے اس تنازع کے سب سے تاریک ابواب میں سے ایک کو جنم دیا۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک اور بے شمار زخمی ہوئے۔ لوگوں نے شدید بھوک کا سامنا کیا، شہری تنصیبات ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور غزہ کی پوری آبادی بے گھر ہو گئی۔ 7 اکتوبر کو اغوا کیے گئے یرغمالیوں کو رہائی مل چکی ہے اور وہ اپنے پیاروں سے آن ملے ہیں جبکہ بعض خاندان واپس آنے والی لاشوں پر سوگ منا رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بسانے کا سلسلہ، گھروں کی مسماری اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ ایک خودمختار، آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے امکانات کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔

امن، سلامتی اور وقار کی ضمانت

اینالینا بیئربوک نے کہا کہ دو برس میں جو کچھ ہوا ہے اس سے وہ حقیقت اجاگر ہوئی ہے جسے سبھی دہائیوں سے جانتے ہیں کہ اسرائیل۔فلسطین تنازع کا حل نہ تو غیر قانونی قبضے میں ہے اور نہ ہی قانونی یا غیر قانونی الحاق، جبری بے دخلی، بار بار ہونے والے دہشت گرد حملوں اور دائمی جنگ سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ اس کے بجائے، اسرائیلی اور فلسطینی صرف اسی وقت پائیدار امن، سلامتی اور وقار کے ساتھ رہ پائیں گے جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ دو آزاد اور خودمختار ریاستوں کی صورت میں باہم تسلیم شدہ سرحدوں اور مکمل علاقائی انضمام کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات نیویارک اعلامیے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 (2025) میں بھی کہی گئی ہے جس میں غزہ تنازع کے خاتمے سے متعلق امریکہ کے منصوبے کی توثیق کی گئی۔

پائیدار جنگ بندی کا مطالبہ

جنرل اسمبلی کی صدر نے کہا، یہ یقینی بنانا ہوگا کہ جنگ بندی مضبوط ہو اور یہ مکمل و مستقل طور پر لڑائی کا خاتمہ کرے۔ حالیہ عارضی جنگ بندی کے آغاز کے بعد کم از کم 67 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ کی پوری پٹی میں انسانی امداد محفوظ، بلا رکاوٹ اور بین الاقوامی انسانی قانون اور اصولوں کے مطابق پہنچنی چاہیے۔ اس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے ذریعے امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی ذمہ داریوں سے متعلق مشاورتی رائے پر عمل کرنا قانونی ذمہ داری ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور انصاف کی جستجو کے لیے اقوام متحدہ کی ضرورت ہے اور اس میں جنرل اسمبلی کو موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔