عراق: دو دہائیوں سے جاری یو این مشن ’یونامی‘ کا کام مکمل
دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک عراق میں استحکام اور انتقال اقتدار میں معاونت فراہم کرنے کے بعد اقوام متحدہ کا معاون مشن (یونامی) رواں سال کے اختتام پر اپنا کام مکمل کر کے واپس چلا جائے گا۔
ملک میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور مشن کے سربراہ محمد الحسن نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشن کی رخصتی عراق اور اقوام متحدہ کے مضبوط تعلق کے اختتام کی علامت نہیں بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ملک میں امن، سلامتی اور استحکام کی طرف سفر طویل اور مشکل تھا لیکن عالمی برادری کی معاونت سے عراق بالآخر سرخرو ہونے میں کامیاب رہا۔
انہوں نے ملک میں حالیہ انتخابات کے انعقاد پر سیاسی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ نئی حکومت جلد تشکیل پائے گی۔
بریفنگ کے موقع پر اقوام متحدہ میں عراق کے مستقل نمائندے لقمان فائیلی نے مشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مشکل حالات میں عراق کو انتہائی ضروری معاونت فراہم کی اور وقت کے ساتھ اپنے کام کو موثر طریقے سے تبدیل کیا۔
معاونت جاری رکھنے کا عزم
خصوصی نمائندے نے ان تمام لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے مشن کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔ ان میں 2003 میں کینال ہوٹل بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے اقوام متحدہ کے 22 کارکن بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلسل تنازعات کے اثرات کے باعث ملک میں انسانی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے اور 10 لاکھ عراقی اب بھی بے گھر ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی ملک کو کئی طرح کے مسائل درپیش ہیں جن میں اقلیتوں، خواتین اور نوجوانوں کے حقوق کا فروغ و تحفظ خاص طور پر اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ عراق کے ساتھ کھڑا رہے گا تاکہ اس کی کامیابیوں کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ ملک کو تکنیکی مہارتوں، مشاورتوں اور ترقیاتی پروگراموں کے لیے مدد کی فراہمی جاری رہے گی۔ اس سلسلے میں مشمولہ اقتصادی ترقی، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ، انسانی حقوق، نقل مکانی، خواتین، نوجوانوں اور اقلیتوں کے حوالے سے معاونت کی فراہمی اہم ہو گی۔
عراق کی کامیابیوں کا اعتراف
محمد الحسن نے عراق اور اس کے عوام کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود ملک نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ملک میں 13 انتخابات کا انعقاد ہو چکا ہے اور نئے آئین کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ حالیہ انتخابات آزاد، منظم اور معتبر تھے جن میں 56 فیصد رائے دہندگان نے شرکت کی۔
انہوں نے عراق اور کرد علاقے کی حکومت کے مابین تعلقات کو اہم شراکت داری قرار دیا اور کہا کہ دونوں کے مابین مزید تعاون اور مذاکرات کی ضرورت ہے اور یہ سب کچھ عراق کے آئین کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
انہوں نے عراق اور کویت دونوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مضبوط تعلقات قائم رکھیں جو اچھے پڑوسی ہونے کے اصول، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے احترام اور ریاستوں کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت پر مبنی ہوں۔ کھوئے ہوئے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ماضی کی غلطیاں دہرائی نہ جائیں۔
محمد الحسن نے عراق کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں رکنیت حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور واضح کیا کہ اس رکنیت کے ساتھ انسانی حقوق کے اعلیٰ معیارات کے تحفظ کی ذمہ داری بھی آتی ہے۔