انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنوب مشرقی ایشیا: طوفانی بارشوں اور سیلاب میں سیکڑوں ہلاک، ہزاروں بے گھر

انڈونیشیا کا ایک شہر سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔
© UNFPA/Dian Agustino
انڈونیشیا کا ایک شہر سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا: طوفانی بارشوں اور سیلاب میں سیکڑوں ہلاک، ہزاروں بے گھر

موسم اور ماحول

جنوب مشرقی ایشیا میں دو لگاتار سمندری طوفانوں کے باعث آنے والی ریکارڈ توڑ بارشوں اور سیلاب نے سیکڑوں جانیں لے لی ہیں اور ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی ترجمان کلیئر نولیئس نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ انڈونیشیا، فلپائن، سری لنکا، تھائی لینڈ اور ویت نام مون سون کی بارشوں اور سمندری طوفانوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ایشیا سیلاب کے سامنے انتہائی کمزور خطہ ہے جو اس کے لیے سب سے بڑا موسمی خطرہ ہے۔

Tweet URL

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے سمندری طوفان سینیار سے انڈونیشیا کے علاقے شمالی سماٹرا، ملائشیا کے جزیرہ نما حصے اور جنوبی تھائی لینڈ میں تباہ کن بارشیں ہوئیں اور سیلاب آئے حالانکہ خط استوا کے قریبی علاقوں میں ایسی صورتحال کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ چونکہ مقامی آبادی ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتی اس لیے یہ آفات بڑے پیمانے پر تباہی لاتی ہیں۔

انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان

ترجمان نے انڈونیشیا کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ طوفان، بارشوں اور سیلاب سے 604 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 464 افراد لاپتہ اور 2,600 زخمی ہیں۔ ان آفات نے مجموعی طور پر 15 لاکھ افراد کو متاثر کیا جن میں سے 5 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ بے گھر ہو گئے ہیں۔

ویت نام بھی کئی ہفتوں سے تباہ کن موسم کی زد میں ہے جہاں آئندہ ایام میں مزید طوفانی بارشوں کی توقع ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کی غیر معمولی بارشوں نے تاریخی مقامات، معروف سیاحتی مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اکتوبر کے آخر میں وسطی ویت نام کے ایک موسمیاتی مرکز نے 24 گھنٹوں میں 1,739 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جو ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ یومیہ بارش ہے۔ ادارے کے مطابق 1,700 ملی میٹر سے زیادہ بارش شمالی نصف کرے اور ایشیا کا نیا ریکارڈ تصور ہو گی۔

سری لنکا میں ہنگامی حالات

عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کے ترجمان ریکارڈو پیریز نے سری لنکا کی صورتحال کو تیزی سے بڑھتے ہنگامی انسانی حالات قرار دیا ہے جہاں گزشتہ ہفتے سمندری طوفان ڈٹواہ سے 14 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ ان میں دو لاکھ 75 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ ممکنہ طور پر یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی کیونکہ رابطے منقطع ہونے اور سڑکیں بند ہو جانے کی وجہ سے فی الوقت درست اعدادوشمار مرتب کرنا ممکن نہیں۔

بارشوں اور سیلاب میں گھر بہہ گئے ہیں، پوری کی پوری آبادیاں دیگر علاقوں سے کٹ کر رہ گئی ہیں اور پانی، صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولیات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

ہزاروں خاندان غیر محفوظ اور گنجان پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ سیلاب کے بعد وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ضروریات دستیاب وسائل سے کہیں زیادہ ہیں اور کمزور ترین لوگوں کو مدد پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر امداد کی ضرورت ہے۔

کلیئر نولیئس نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا درجہ حرارت شدید بارشوں کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آئندہ بھی ایسے واقعات پیش آتے رہیں گے۔