وسائل میں کمی کے باوجود ایڈز کی روک تھام میں کامیابی
19 سال کی عمر میں پوجا مشرا کی صحت مسلسل بگڑنے لگی تو انہوں نے ایچ آئی وی کا علاج شروع کرایا۔ اس وقت انہیں یہ بیماری تشخیص ہوئے دو برس ہو چکے تھے۔ کبھی وہ سوچتی تھیں کہ آیا اپنی زندگی معمول پر لا سکیں گی یا نہیں اور آج وہ انڈیا میں ایچ آئی وی افراد کے اتحاد میں نوجوانوں کی رہنما ہیں۔
ایڈز کے خلاف عالمی دن پر وہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو باقاعدگی سے اور متواتر دوا لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ دوا ہی ان کا سب سے بڑا تحفظ ہے۔
انسداد ایڈز کے لیے اقوام متحدہ کے پروگرام یو این ایڈز نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے چار کروڑ سے زیادہ افراد کی مدد کے اقدامات کئی دہائیوں کے بدترین بحران سے گزر رہے ہیں کیونکہ امدادی وسائل میں کٹوتیوں نے بیماری سے بچاؤ اور علاج کے پروگراموں کو متاثر کیا ہے۔ یو این ایڈز 2030 تک اس وبا کے خاتمے کے مقصد پر کام کر رہا ہے مگر وسائل کی کمی اس ہدف کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے حکومتوں اور شراکت داروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئی منظور شدہ طبی سہولیات تک رسائی میں اضافہ کریں تاکہ انفیکشن کی شرح کم کی جا سکے اور بیرونی امداد میں کمی سے پیدا ہونے والے خلل سے نمٹا جا سکے۔
ایچ آئی وی کے خلاف پیش رفت
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی اور مرض سے بچاؤ کے اقدامات سست پڑنے کے باعث دنیا سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے، لیکن ایسے نئے سائنسی طریقہ کار بھی سامنے آ رہے ہیں جو ایچ آئی وی کی وبا کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، مالی مشکلات کے باوجود 2025 میں ایچ آئی وی کے خلاف عالمی اقدامات میں تیزی آئی ہے۔ ادارے نے رواں سال اکتوبر میں ایل ای این انجیکشن تھراپی کی منظوری دی جو سال میں دو مرتبہ لگائی جاتی ہے اور اس کے موثر نتائج سامنے آتے ہیں۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ، زمبابوے اور زیمبیا میں بھی قومی سطح پر اس ویکسین کی منظوری دی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس تک رسائی حاصل کر سکیں۔
ادارہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کم آمدنی والے ممالک میں اس دوا تک آسان رسائی یقینی بنانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
امدادی وسائل کی ضرورت
'ڈبلیو ایچ او' میں ایچ آئی وی اور دیگر امراض کے شعبے کی سربراہ ٹیریزا کاسائیوا کا کہنا ہے کہ لوگوں کو مدد دی جائے اور رکاوٹیں دور کی جائیں تو تحفظ زندگی کی خدمات تک مساوی رسائی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔
یو این ایڈز نے خبردار کیا ہے امدادی وسائل کی قلت کے نتیجے میں 13 ممالک میں ایچ آئی وی کا علاج شروع کرنے والے افراد کی تعداد کم ہو گئی ہے جبکہ خواتین کی قیادت میں چلنے والی 60 فیصد سے زیادہ تنظیموں نے بتایا ہے کہ انہیں ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف بنیادی خدمات معطل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
پوجا مشرا کہتی ہیں کہ انہوں نے جس درد، خوف اور ذہنی دباؤ کا سامنا کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے وہ جانتی ہیں کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ کسی فرد کے لیے دوسروں کی جانب سے ملنے والی مدد اور ہمدردی کس قدر اہم ہوتی ہے۔ وہ انڈیا میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے قومی اتحاد کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ یہ ادارہ اس مرض سے جڑی بدنامی کا خاتمہ کرنے کے ساتھ کمزور طبقات کو علاج و تحفظ کی خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مدد کے بغیر اس تحریک کو طویل عرصے تک جاری رکھنا مشکل ہو گا۔ جب تک مالی وسائل نہ ہوں اور نیٹ ورک مضبوط نہ ہو اس وقت تک خدمات فراہم کرنا، نوجوانوں تک پہنچنا اور لوگوں کو مدد پہنچانا ممکن نہیں ہو گا۔