سری لنکا: سمندری طوفان ڈٹوا میں 400 سے زیادہ افراد ہلاک
سری لنکا کو سمندری طوفان ڈٹوا کے نتیجے میں دو دہائیوں کے بدترین سیلاب کا سامنا ہے جس میں 10 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور اب تک 400 سے زیادہ لوگ ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، ملک کے تمام 25 اضلاع میں سیلاب سے 212 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 218 لاپتہ ہیں۔ 51 ہزار سے زیادہ خاندانوں کے ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ لوگوں کو 1,094 امدادی مراکز میں پناہ دی گئی ہے۔
طوفان سے بری طرح متاثرہ اضلاع میں گمپھا، کولمبو، پتلام، مانار، ٹرانکومالی اور باتیکلو شامل ہیں جبکہ وسطی پہاڑی علاقے کینڈی، بدولہ اور ماتلے میں لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی ہے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق، سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں 15 ہزار سے زیادہ گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ 200 سڑکیں بند ہو گئی ہیں، 10 سے زیادہ پل ٹوٹ گئے ہیں جبکہ ریلوے نیٹ ورک اور بجلی گرڈ کے کئی حصے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ملک کے شمالی اضلاع خصوصاً جافنا میں بجلی، موبائل فون اور ٹرانسپورٹ کے نظام میں شدید خلل کی اطلاعات ہیں اور کئی دیہات مکمل طور پر دیگر علاقوں سے کٹ گئے ہیں۔
صاف پانی کی دستیابی بھی بڑا مسئلہ بن گئی ہے جبکہ متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔
بیماریاں پھیلنے کا خطرہ
اوچا کے مطابق، پہلے سے کمزور طبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ متعدد ضلعی ہسپتال سیلابی پانی میں گھرے ہیں۔ شدید بیمار مریضوں کو فضائی راستے سے محفوظ ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب زدہ کھیتوں، تباہ شدہ گوداموں اور سپلائی لائنوں کے منقطع ہونے سے غذائی عدم تحفظ میں اضافے کا خطرہ ہے جس سے آئندہ ہفتوں میں غذائی قلت اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ سیلاب کے بعد مچھروں، خوراک اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں اور پینے کے لیے صاف پانی استعمال کیا جائے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اقدامات
اقوام متحدہ نے سری لنکا میں اپنے ہنگامی رابطہ نظام کو فعال کر دیا ہے جس کے ذریعے حکومتی اداروں اور امدادی تنظیموں کے ساتھ مل کر مربوط اور موثر امدادی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
خوراک، صحت و صفائی، تعلیم، تحفظ، پناہ اور ابتدائی بحالی سمیت مختلف شعبوں میں رابطہ کاری کا نظام قائم کر دیا گیا ہے جبکہ فوری ضروریات کے تعین کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر جائزہ عمل بھی جاری ہے۔
سری لنکا میں اقوام متحدہ کے نمائندے مارک آندرے فرانشے نے بتایا ہے کہ رسائی میں مشکلات کے باوجود یونیسف نے پہاڑی علاقے بدولہ کے 25 امدادی مراکز میں پینے کا پانی پہنچایا ہے جو سیلاب اور بنیادی ڈھانچے کے نقصان کے باعث ملک کے دیگر حصوں سے کٹ گئے تھے۔
حکومتی کوششوں میں تعاون کے لیے انڈیا اور پاکستان نے بھی ہنگامی امدادی ٹیمیں بھیجی ہیں جو سری لنکا کی فوج کے ساتھ مل کر متاثرہ اضلاع میں کام کر رہی ہیں۔
جنوبی ایشیا میں شدید موسمی حالات
ان دنوں پورے جنوبی ایشیا کو شدید موسمی حالات کا سامنا ہے۔ تھائی لینڈ اور ملائشیا میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب نے صورت حال بگاڑ دی ہے۔ جنوبی تھائی لینڈ میں طوفانی بارشوں کے باعث 20 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ ملائشیا میں 25 ہزار لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔
انڈونیشیا میں شدید بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلاب کیفیت کے باعث 440 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور اتنے ہی لوگ لاپتہ ہیں۔