تولیدی بانجھ پن پر عالمی ادارہ صحت کا پہلا ہدایت نامہ جاری
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تولیدی بانجھ پن کی روک تھام، تشخیص اور علاج کے لیے اپنی پہلی عالمی رہنمائی جاری کرتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ تولیدی صحت کی نگہداشت کو سب کے لیے محفوظ، منصفانہ اور سستا بنائیں۔
ہر چھ میں سے ایک فرد اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں تولیدی صحت سے متعلق مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں اس حوالے سے طبی خدمات کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن علاج کی سہولیات تک رسائی اب بھی نہایت محدود ہے۔ کئی ممالک میں لوگ ذاتی خرچ سے بانجھ پن کا معائنہ اور علاج کراتے ہیں جبکہ بہت سے ممالک میں متبادل طریقے سے اولاد کے حصول پر ایک ہی مرتبہ ہونے والا خرچ اوسط فی کس سالانہ آمدنی سے دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ بانجھ پن دور حاضر میں صحت عامہ کا ایک اہم لیکن نظر انداز کیا جانے والا مسئلہ ہے۔ کروڑوں لوگ کسی مدد کے بغیر یہ سفر طے کرتے ہیں۔ ان کے لیے بانجھ پن کے علاج کی قیمت ادا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ سستے مگر غیر ثابت شدہ اور غیرمعیاری علاج سے رجوع کر کے نقصان اٹھاتے ہیں یا انہیں بچے پیدا کرنے کی خواہش اور مالی تحفظ میں سے کوئی ایک انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے تمام ممالک سے 'ڈبلیو ایچ او' کی رہنمائی اپنانے کی درخواست کی ہے تاکہ بڑی تعداد میں لوگ سستی، باوقار اور سائنس پر مبنی طبی نگہداشت تک رسائی حاصل کر سکیں۔
تولیدی صحت کی دیکھ بھال
'ڈبلیو ایچ او' کی رہنمائی میں 40 سفارشات شامل ہیں جن سے بانجھ پن کی روک تھام، تشخیص اور علاج کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔ یہ رہنمائی تولیدی صحت کی دیکھ بھال کو قومی طبی حکمت عملی، خدمات اور مالی امداد کا حصہ بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
12 ماہ یا اس سے زیادہ عرصہ تک باقاعدہ جنسی تعلقات کے بعد حمل کا نہ ہونا بانجھ پن کہلاتا ہے۔ یہ صورتحال لوگوں کی ذہنی، نفسیاتی اور مالی حالت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کی جاری کردہ رہنمائی میں بانجھ پن کے موثر علاج کے لیے ہدایات شامل ہیں۔ اس میں احتیاطی تدابیر کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے جس میں تولیدی صحت کی سہولتوں میں اضافے، افزائش نسل اور بانجھ پن کے حوالے سے ضروری معلومات کی فراہمی بھی شامل ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کی سفارشات
رہنمائی میں بانجھ پن کے اسباب، جیسا کہ جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں اور تمباکو نوشی پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، اس میں اولاد کے خواہش مند جوڑوں کے لیے صحت مند غذا، جسمانی سرگرمی اور تمباکو نوشی سے بچاؤ جیسی ہدایات بھی شامل ہیں۔
اس میں مردوں اور عورتوں میں بے اولادی کے عام حیاتیاتی اسباب کی تشخیص کے لیے طبی راستوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ یہ مریض کی ترجیحات اور طبی معائنے کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج کے امکانات کو بتدریج آگے بڑھانے کے لیے رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے رکن ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ ان سفارشات کو اپنے مقامی سیاق و سباق کے مطابق ڈھالیں اور اس کی روشنی میں بانجھ پن پر قابو پانے کی پیشرفت کی نگرانی کریں۔ اس رہنمائی کا کامیاب نفاذ صحت کی وزارتوں، پیشہ وارانہ طبی اداروں، سول سوسائٹی اور مریضوں کے درمیان تعاون کے لیے ضروری ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ رہنمائی کے نفاذ کو جنسی اور تولیدی صحت کے حوالے سے جامع اور حقوق پر مبنی طریقوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے جس میں افزائش نسل کی دیکھ بھال بھی شامل ہو تاکہ لوگوں کو اپنی زندگی کے حوالے سے آگاہی پر مبنی فیصلے کرنے کا اختیار دیا جا سکے۔