انسانی کہانیاں عالمی تناظر

گنی بساؤ: فوجی بغاوت آئینی نظام اور جمہوری اصولوں کے خلاف، گوتیرش

گنی بساؤ کے دارالحکومت بساؤ کی ایک سڑک۔
© Wikipedia Commons/Colleen Taugher
گنی بساؤ کے دارالحکومت بساؤ کی ایک سڑک۔

گنی بساؤ: فوجی بغاوت آئینی نظام اور جمہوری اصولوں کے خلاف، گوتیرش

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ نے افریقی ملک گنی بساؤ میں فوجی بغاوت کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ منتخب حکومت کا تختہ الٹنا آئینی نظام اور جمہوری اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ملک کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 23 نومبر کے عام انتخابات میں عوام نے پرامن طریقے سے حق رائے دہی استعمال کیا اور ان کی منشا کو نظر انداز کرنا جمہوری اصولوں کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے ملک میں آئینی نظام کی فوری و غیر مشروط بحالی اور تمام گرفتار افراد بشمول انتخابی حکام، حزب اختلاف کے رہنماؤں اور سیاسی شخصیات کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، قانون کی حکمرانی کا احترام کریں اور تنازعات کو پرامن طریقے سے، جامع مکالمے کے ذریعے اور قانونی راستوں سے حل کریں۔

اطلاعات کے مطابق فوج نے انتخابات کے نتائج کے اعلان سے قبل ہی حکومت کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور میجر جنرل ہورٹا انٹا کو عبوری صدر نامزد کر دیا ہے۔ معزول ہونے والے صدر عمرو سساکو ایمبالو سینیگال چلے گئے ہیں۔ یہ بغاوت مغربی اور وسطی افریقہ میں حکومتوں پر حالیہ فوجی قبضوں کے سلسلے میں ایک اور اضافہ ہے جو خطے میں مسلسل عدم استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔

بغاوت پر علاقائی ردعمل

سیکرٹری جنرل نے جمہوریت کے تحفظ، استحکام کے فروغ اور گنی بساؤ کو انتخابی عمل کے پرامن اختتام اور جمہوری راستے پر فوری واپسی میں مدد فراہم کرنے کے لیے مغربی افریقی ریاستوں کی معاشی برادری (ایکوواس)، افریقی یونین اور مغربی افریقی اکابر فورم کی کوششوں کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

افریقی یونین نے بھی ملک میں فوجی بغاوت کی سخت مذمت کی ہے۔ یونین کے کمیشن کے چیئرمین محمود علی یوسف نے غیر آئینی تبدیلیوں کے حوالے سے تنظیم کی سخت پالیسی کو دہراتے ہوئے تمام گرفتار حکام کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں انتخابی نتائج کا اعلان کرنے کا قانونی اختیار صرف الیکشن کمیشن ہی کو حاصل ہے۔

ایکوواس نے بھی فوجی بغاوت کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ہنگامی سربراہی اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ گنی بساؤ کو تنظیم کے تمام فیصلہ ساز اداروں سے معطل کیا جا رہا ہے۔