انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان: حالیہ آئینی ترامیم عدلیہ اور احتساب عمل کے لیے نقصان دہ، وولکر ترک

اسلام آباد، پاکستان میں پناہ گزینوں کے گھروں نے ایک جدید سفید رنگ کے ایک سبز رنگ کے سامنے بہت سی بین الاقوامی عمارت کو آراستہ کیا.
UN News/Laraib Khan پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع پارلیمان کی عمارت۔

پاکستان: حالیہ آئینی ترامیم عدلیہ اور احتساب عمل کے لیے نقصان دہ، وولکر ترک

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے پاکستان میں حالیہ آئینی ترامیم کو عدلیہ کی آزادی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے عسکری حکام کے احتساب اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے گہری تشویش نے جنم لیا ہے۔

ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال آئین میں 26 ویں ترمیم کی طرح حالیہ 27ویں ترمیم بھی قانونی شعبے اور سول سوسائٹی کے ساتھ وسیع تر مشاورت اور ضروری بحث و مباحثے کے بغیر منظور کی گئی ہے۔ یہ ترامیم اختیارات کی عدم مرکزیت کے اصول سے متصادم ہیں جو ملک میں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے۔

Tweet URL

عدالتوں کے ججوں کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن سے ملک میں عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ 13 نومبر کو ہونے والی آئینی ترمیم کے تحت ایک نئی وفاقی آئینی عدالت بھی تشکیل دی گئی ہے جو آئینی مقدمات پر فیصلہ کرے گی جبکہ سپریم کورٹ اب صرف شہری اور فوجداری مقدمات سنے گی۔

جمہوریت اور قانون کے لیے خطرہ

ہائی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ ان تبدیلیوں سے عدلیہ میں سیاسی مداخلت اور اس کے انتظامیہ کے تابع ہو جانے کا خطرہ ہے۔ نہ تو انتظامیہ اور نہ ہی مقننہ کے پاس عدلیہ کو اپنے ماتحت رکھنے یا اس کی سمت متعین کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ عدلیہ کو اپنے فیصلوں میں ہر طرح کی سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

عدلیہ کی آزادی کا بنیادی پیمانہ یہ ہے کہ وہ حکومت کی سیاسی مداخلت سے آزاد ہو۔ ماضی کے تجربات سے ثابت ہے کہ اگر جج آزاد نہ ہوں تو انہیں قانون کے یکساں نفاذ اور انسانی حقوق کے تحفظ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

وولکر ترک نے کہا ہے کہ حالیہ ترمیم ملک کے صدر، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو فوجداری مقدمات سے دائمی استثنیٰ دیتی ہے جنہیں نہ تو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسا وسیع تر استثنیٰ احتساب کے عمل کو کمزور کرتا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ ترامیم پاکستان کے عوام کے لیے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے دور رس منفی نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔