انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ریاض کانفرنس منصفانہ اور ماحول دوست صنعتی ترقی کے اعلامیہ پر ختم

صنعتی ترقی پر اقوام متحدہ کے ادارے یونیڈو کی سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس کے آخری دن سٹیج کی ایک تصویر۔
UN News/ Conor Lennon صنعتی ترقی پر اقوام متحدہ کے ادارے یونیڈو کی سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس کے آخری دن سٹیج کی ایک تصویر۔

ریاض کانفرنس منصفانہ اور ماحول دوست صنعتی ترقی کے اعلامیہ پر ختم

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کی عالمی صنعتی کانفرنس میں صنعتوں کو ماحول دوست معیشتوں، منصفانہ مواقع اور بہتر روزگار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے حکومتوں، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی کے مابین تعاون کو مضبوط بنانے کے اعلامیہ کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اعلامیہ میں نوجوانوں اور خواتین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان کے لیے ہنر اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے اور عالمی منڈیوں میں موثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے ادارہ صنعتی ترقی (یونیڈو) کے زیراہتمام سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی اس کانفرنس کے اعلامیہ کو عالمی صنعتی پالیسی میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ حکومتوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے ایک ایسا طریقہ کار فراہم کرتا ہے جس سے وسائل کو متحرک کیا جا سکے گا اور دنیا بھر میں لوگوں کے لیے ٹھوس فوائد حاصل ہوں گے۔

یہ اعلامیہ اس بات کو یقینی بنانے کی جانب بھی اہم قدم ہے کہ صنعتی ترقی لوگوں اور کرہ ارض کے لیے ایک مثبت قوت بنے۔

حقیقی و مساوی فوائد کا حصول

دنیا میں صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہو رہی ہے جس سے غریب ترین علاقوں میں بہتر روزگار اور معیشت کے مواقع بڑھنے کی توقعات ہیں۔ لیکن اس سے عالمی آبادی اور کرہ ارض کو حقیقی طور پر فائدہ پہنچانے کے لیے بین الاقوامی تجارت اور صنعت کو کم خرچ اور ماحول دوست اقدامات سے ہم آہنگ کرنا بھی ضروری ہے۔

یونیڈو کے چیف آف کیبنٹ مینوئل میٹیئٹ نے کہا ہے کہ ادارہ ان اہداف کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور موجودہ معلومات، دستیاب ٹیکنالوجی اور وسائل کے ساتھ سب کچھ ممکن ہے۔

یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی ترقی یافتہ صنعتی ممالک اپنے وسائل کے اعتبار سے بہت امیر ہیں لیکن وہ تاحال مناسب مواقع تلاش نہیں کر پائے۔ ریاض کانفرنس کا مقصد یہی تھا کہ کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے سرمایہ کاری کو متحرک کیا جا سکے۔

ریاض اعلامیہ کے اہم نکات

  • جامع اور مشمولہ صنعتی ترقی کو غربت میں کمی، روزگار کے مواقع میں اضافے اور پائیداری کے محرک کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔
  • صنعتی ترقی کے لیے ایسے پائیدار طریقے اختیار کیے جائیں گے جو پیرس موسمیاتی معاہدے اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اہداف سے ہم آہنگ ہوں۔
  • صنعتی ترقی میں تکنیکی خلا کو پر کرنے کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی اور اختراع سے کام لیا جائے گا۔
  • عدم مساوات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے کثیر الفریقی تعاون کو مضبوط کیا جائے گا۔