ریاض کانفرنس: نوجوان کاروباری افراد مستقبل کی صنعتیں قائم کرنے میں پرعزم
دنیا بھر کے نوجوان انسانوں اور کرہ ارض کے لیے فائدہ مند صنعتوں کی تخلیق میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں جاری عالمی صنعتی کانفرنس کا چوتھا روز 'نئی نسل' کے لیے مخصوص تھا جس میں یقین دہانی کرائی گئی کہ نوجوانوں کی آوازیں سنی جائیں گی اور ترقی کے عمل میں انہیں ساتھ رکھا جائے گا۔
دنیا بھر میں نئے کاروباروں کے ناکام ہونے کی 90 فی صد شرح کو دیکھتے ہوئے بیشتر نوجوان سمجھ سکتے ہیں کہ معاشی بے یقینی کے موجودہ دور میں کوئی کاروباری ادارہ قائم کرنا بہت بڑا خطرہ ہے۔ لیکن کاروباری انتظام (بزنس مینجمنٹ) کے طالب علم ڈینیئل وو اس کا دوسرا پہلو دکھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ، اس میں کم از کم دس فی صد کامیابی کا امکان بھی ہے۔ اگر کوئی اس 10 فی صد امکان کو آزمانا ہی نہ چاہے تو پھر کامیابی کس طرح ممکن ہوگی؟
انہوں نے دیہی نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل صلاحیتوں کا پلیٹ فارم بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے جس کا مقصد انہیں مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر سافٹ ویئر سے متعلق مہارتیں سکھانا ہے۔ اس منصوبے کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صنعتی ترقی (یونیڈو) کے زیراہتمام 'نوجوانوں کے اختراعی مقابلے' کے فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔
اسی بنا پر انہیں ریاض کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملی جہاں گزشتہ روز انہوں نے یوتھ پارلیمنٹ کے سیشن میں حصہ لیا۔ یہ بین الاقوامی مباحثہ پلیٹ فارم ہے جسے یونیڈو اور سعودی وزارت صنعت و معدنی وسائل نے مشترکہ طور پر منظم کیا ہے۔
نوجوانوں کی برتری
کانفرنس میں شریک نوجوان کاروباری ذہن نئے جوش و جذبے سے بھرپور اور کاروباری تعلقات قائم کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بے تاب دکھائی دیے جہاں انہیں رہنماؤں، پالیسی سازوں اور ممکنہ سرمایہ کاروں سے ملنے کا موقع ملا۔
اس موقع پر باہم متعامل مکالمے، اختراعات اور رہنمائی کے اجلاس منعقد ہوئے۔ نوجوان مندوبین نے قابل تجدید توانائی، دائروی معیشت اور ڈیجیٹل صنعت کاری کے حوالے سے اپنے اختراعی منصوبے پیش کیے۔ اس طرح پالیسی سازوں اور صنعتی رہنماؤں کو نوجوانوں کے ساتھ براہ راست بات چیت اور ان کے خیالات سے آگاہی کا موقع ملا۔
اگرچہ نوجوان تجربے کی کمی کے باعث بھی عمر رسیدہ کاروباری افراد کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں تاہم ڈینیئل وو کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو یہ برتری حاصل ہے کہ وہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے کام لیتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ لوگ مختلف طرح کے مواد سے کس طرح جڑتے ہیں۔ نوجوان اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ان کی نسل کیسے سوچتی ہے۔
کانفرنس میں نوجوانوں کے لیے پورا دن مخصوص کر کے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ صنعت کا مستقبل صرف موجودہ رہنماؤں پر ہی منحصر نہیں بلکہ یہ نئی نسل کی تخلیقی صلاحیت، عزم اور استقامت سے بھی تشکیل پائے گا۔
عالمی صنعتی کانفرنس میں 'نئی نسل کا دن'
- اس دن کا مقصد نوجوان جدت کاروں، سرمایہ کاروں اور تبدیلی لانے والوں کو بااختیار بنانا تھا تاکہ ان کے نقطہ نظر کو عالمی صنعتی مکالمے کا حصہ بنایا جا سکے۔
- 'نوجوانوں کا اختراعی مقابلہ' اس دن کا ایک اہم پروگرام تھا جسے ایسے عملی منصوبوں کو اجاگر کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا جو اہم مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر شرکا نے اپنے منصوبے پیش کیے جن میں پائیدار زرعی نظام کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات سے لے کر مقامی سطح پر چلائے جانے والے قابل تجدید توانائی کے منصوبے شامل تھے۔ مقابلہ جیتنے والوں کو یونیڈو اور شراکت داروں کی جانب سے معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے طریقہ کار آزما سکیں۔
- 'نئی نسل کا نیٹ ورک' اس دن کی ایک اور اہم پیش رفت تھی۔ یہ ایک عالمی پلیٹ فارم ہے جو نوجوان جدت کاروں کو رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں سے جوڑے گا۔ اس نیٹ ورک کے قیام کا مقصد کانفرنس کے بعد بھی نوجوانوں کی شمولیت برقرار رکھنا ہے تاکہ انہیں صنعتی پالیسی اور عملی اقدامات پر اثرانداز ہونے کا موقع ملتا رہے۔
- اختتامی اجلاس میں ایک مضبوط پیغام دیا گیا کہ صنعتی پالیسی سازی اور عملدرآمد کے ہر مرحلے میں نوجوانوں کی آواز کو شامل کیا جائے۔ یونیڈو نے پائیدار، شمولیتی اور مضبوط صنعتوں کی تعمیر میں شراکت دار کے طور پر نوجوانوں کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔